بالی ووڈ کے سینئر اداکار منوج باجپائی نے کہا ہے کہ وہ کئی بار اداکاری کو مکمل طور پر چھوڑنے کے بارے میں سوچ چکے ہیں۔
57 سالہ منوج باجپائی تین دہائیوں سے زائد عرصے سے بھارتی فلموں میں کام کر رہے ہیں۔
متعدد ایوارڈ یافتہ اداکار نے معروف یوٹیوبر رنویر الہٰ آبادیہ سے گفتگو کے دوران کہا کہ اب وہ سنیما کے ایک ہلکے پھلکے پہلو کو آزمانے کے خواہش مند ہیں، جس میں کمرشل تفریحی فلمیں اور مزاحیہ کامیڈیز شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسے کردار کرنا چاہتے ہیں جو انہیں ان جذباتی طور پر بھاری کرداروں سے کچھ فاصلے پر لے جائیں جن کے لیے وہ عموماً پہچانے جاتے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ بڑھاپے میں بھی اداکاری کا سلسلہ جاری رکھیں گے تو انھوں کہا کہ تقریباً پچھلے 10 سال سے کبھی کبھار میرا دل کرتا ہے کہ میں اداکاری چھوڑ دوں، لیکن پھر کوئی ایسا کردار آ جاتا ہے اور میں دوبارہ اس طرف چلا جاتا ہوں۔ میں اداکاری کو مجبوری کے طور پر نہیں کرنا چاہتا کہ مجھے صرف گھر کے لیے روزی روٹی کمانے کی خاطر کام کرنا پڑے۔ میں اداکاری اس لیے کرنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی کردار کو نبھانے میں مجھے بہت لطف اور اطمینان محسوس ہو، تب ہی اسے قبول کروں۔
1998 کی بلاک بسٹر فلم ستیا سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے منوج باجپائی نے کہا آج کل میرا بہت دل چاہتا ہے کہ میں ایک کمرشل فلم کروں، حالانکہ میں کافی عرصے سے اس طرز کی فلموں سے دور رہا ہوں۔ میں ایک مکمل کامیڈی فلم کرنا چاہتا ہوں، ایسی فلم جس میں بس بے فکری اور مزاح ہو۔
انکا کہنا تھا کہ تھوڑا بہت گانوں پر ناچنا ہو۔ کچھ بھی سنجیدہ نہ ہو، گھر پر کوئی خاص تیاری نہ کرنی پڑے۔ بس اپنے گھر والوں سے خدا حافظ کہو اور سیٹ پر جا کر اچھا وقت گزارو، بغیر اس بات کی فکر کیے کہ تم کون سا کردار ادا کر رہے ہو۔ میں ان تمام چیزوں سے کچھ دیر کے لیے دور جانا چاہتا ہوں جو میں اب تک کرتا آیا ہوں۔
جہاں تک کام کا تعلق ہے تو وہ اپنی آئندہ آنے والی فلم گورنر میں نظر آئیں گے۔ اس فلم کے ہدایت کار چنمے ڈی منڈلیکر، جبکہ اسکے پروڈیوسر امروت لال شاہ ہیں۔ 12 جون کو ریلیز ہونے والی اس فلم میں انکے علاوہ ادا شرما اور نوشاد محمد کنجو بھی اہم کردار نبھا رہے ہیں۔