امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے سخت اور غصے بھرے لہجے میں گفتگو کی تھی۔
ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کی لبنان کے ساتھ مسلسل لڑائی سے پریشان تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں اس وقت ہمیں زمینی فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے اتفاق کیا ہے کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے، آیت اللّٰہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہیں، شاید کسی موقع پر ایرانی آیت اللّٰہ سے ملاقات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں مہنگائی بہت زیادہ نہیں ہے، ایران کا تنازع ختم ہو گا تو فیول کی قیمتیں کم ہوں گی، مستقبل قریب میں فیول کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو پاگل اور ناشکرا قرار دیا تھا۔
رواں ہفتے امریکی صدر کی لبنان کشیدگی پر نیتن یاہو سے سخت گفتگو ہوئی تھی، فون کال میں تلخ جملوں کا استعمال ہوا تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ایک فون کال کے دوران لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور مبینہ طور پر انہیں پاگل اور ناشکرا قرار دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ گفتگو پیر کے روز ہوئی تھی جس میں امریکی حکومتی ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے بیروت پر ممکنہ حملے کے اسرائیلی منصوبے پر بھی اعتراض کیا اور اسے روکنے کی کوشش کی۔