امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا اور قطر ایران کو اس کے منجمد اثاثوں تک محدود رسائی دینے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ابتدائی طور پر تقریباً 6 ارب ڈالر انسانی ہمدردی کے اخراجات کی مد میں ایران کو فراہم کیے جائیں گے۔ اس رقم سے خوراک، دوائیں اور دیگر ضروری اشیا خریدی جا سکیں گی۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی اقتصادی پابندیوں کے باعث دنیا بھر میں ایران کے تقریباً 100 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد ہیں۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ پہلے مرحلے میں اسے 24 ارب ڈالر دیے جائیں۔
رپورٹ کے مطابق 2023 میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے ایک خصوصی پابندی استثنیٰ جاری کیا تھا، جس کے تحت جنوبی کوریا میں موجود ایران کے 6 ارب ڈالر کے تیل کے محصولات قطر منتقل کیے گئے تھے تاکہ انہیں انسانی ہمدردی کی اشیا کی خریداری پر خرچ کیا جا سکے۔ تاہم 7 اکتوبر 2023 کے بعد یہ فنڈز دوبارہ منجمد کر دیے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے اربوں ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے اس وقت چین، بھارت، عراق اور قطر سمیت مختلف ممالک میں امریکی پابندیوں کے باعث بند ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر میں موجود فنڈز کے بارے میں مذاکرات مئی کے آخر میں شروع ہوئے تھے، جب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دوحہ کا دورہ کرکے قطری حکام سے اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔