• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ کے آغاز سے ایک دن قبل ٹائمز آف اسرائیل میں ایک مضمون شائع ہوا جو اسرائیل کے اہداف اور اس میں انڈیا کی شمولیت کے حوالے سے تھا ۔ خیال رہے کہ مودی انڈیا کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے 2017 میں اسرائیل کا دورہ کیا تھا ۔ اسرائیل انڈیا اتحاد کو ’’ آہنی اتحاد‘‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے ۔ ابھی اسرائیل کی طرف سے ہیکسو جن الائنس کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے جس میں اسرائیل ، انڈیا، یونان اور قبرص شامل ہیں جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم کے بقول اس کا حصہ کچھ عرب اور افریقی ممالک بھی ہیں۔ اس ہیکسوجن الائنس کے مقاصد یہ بیان کئے گئے ہیں، مشرق وسطیٰ میں موجود ریڈیکل سنی بلاک اور شیعہ بلاک سے نبرد آزما ہونا، مغربی ایشیا کا نیا نقشہ مرتب کرنا اور خلیج فارس میں انڈیا کی حیثیت کو محتاط مبصر سے بلند کرکے اس خطے کے نقشوں کی نئی تشکیل میں مرکزی نقشہ ساز بنانا تا کہ انڈیا مغربی ایشیا کی فالٹ لائنز پر اپنی اجارہ داری اسرائیل کے ساتھ مل کر قائم کر سکے اور بحیرہ روم سے لے کر انڈو پیسفک تک کا ڈیزائن اپنی مرضی کا مرتب کر سکے دوسرے لفظوں میں یونان کے پانیوں سے لے کر جزیرہ نما عرب تک بالا دستی قائم ہو جائے کہ جس میں جنوبی ایشیا شامل ہے ۔سوال یہ ہے کہ یونان اور قبرص وغیرہ اس صف بندی میں کیوں شامل ہیں؟ یونان کے وزیر خارجہ نے انڈین وزیر خارجہ کو کچھ عرصہ قبل ملاقات میں کہا تھا کہ یونان انڈیاکیلئے یورپ کا گیٹ وے ہے۔ یونان ترکی کے ساتھ دیرینہ تنازعات رکھتا ہے اور اپنے بحری مفادات کے تحفظ کیلئے وہ انڈیا کے ساتھ مشترکہ بحری مشقيں کر چکا ہے جبکہ انڈین نیوی کو اپنی بندرگاہوں تک رسائی بھی فراہم کر چکا ہے۔ یونان اس وقت شدید پریشانی کا شکار ہو گیا جب پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ ہوا اور پھر ترکیہ نے بھی اس معاہدہ میں دلچسپی ظاہر کی ۔ اس دفاعی اتحاد کو وہ اسلامک نیٹو قرار دے رہے ہیں جس میںپاکستان اپنی ایٹمی قوت کی حامل فوجی طاقت ، سعودی عرب 75 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ اور ترکی اپنی فوجی صلاحیتوں کے ساتھ موجود ، اور اسکے اثرات ایجين سمندر (Aegean Sea)سے بحر ہند تک موجود ۔ جبکہ اسرائیل انڈیا یونان قبرص اتحاد اس کو اپنےلئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے کیوں کہ وہ مشرقی بحیرہ روم سے شروع ہو کر انرجی اور ٹریڈ روٹ کی تمام سی لائنز آف کمیونیکیشنز پر اپنی اجارہ داری چاہتے ہیں ۔ انڈیا خاص طور پر بحیرہ احمر سے لے کر باب المندب کی تجارتی گزر گاہوں پر بدمعاش بن کر بیٹھنا چاہتا ہے ۔ اسی طرح نہر سوئز کے مقابلے میں بن گوریان کینال کو بنانا اسرائیل کا دیرینہ خواب ہے مگر اس کیلئےغزہ اسرائیل کو درکار ہے اور وہ اس لئے ہی غزہ کی آبادی کو شفٹ کرنے کی منصوبہ بندی میں جتا ہوا ہے ۔ تا کہ اس بحری حدود سے لے کر بحر ہند اور خلیج فارس تک اس کی بحری راستوں پر اجارہ داری قائم ہو جائے ۔ بحری اہم ترین راستوں میں آبنائے ہرمز پر بھی اس کی نظر ہے ، اسرائیل ویسے ہی ابراہام اکارڈ کے سفارتی ہتھیار سے عرب دنیا میں اپنی بالا دستی قائم کر رہا ہے اور وہ اسوقت عرب دنیا کے داخلی اختلافات کو اپنے مفادات میں بھرپور استعمال بھی کر رہا ہے ۔ جب اپنے گزشتہ دور حکومت میں صدر ٹرمپ نے سعودی بادشاہ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ آپ ہمارے بغیر دو ہفتے بھی برقرار نہیں رہ سکتے ہیں تو یہ کوئی اپنی سیماب طبیعت کی وجہ سے نہیں کہہ دیا تھا بلکہ عرب دنیا کے بدلتے حالات اسکی وجہ تھے ۔ عرب دنیا میں سعودی عرب اور یو اے ای کی بالا دستی کا مقابلہ اب روز روشن کی مانند عیاں ہے ۔اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا جس میں سہولت کاری یو اے ای نے کی ، اسرائیل غزہ کی آبادی کو جلا وطن کرکے یہاں بسانے کے ساتھ ساتھ اپنی فوجی و انٹیلی جنس موجودگی چاہتا ہے اور یو اے ای صومالی لینڈسے اسٹرٹیجک تعلقات رکھتا ہے ، بربیرہ بندر گاہ و ایئر پورٹ کی تعمیر کرکے دی ہے جبکہ سعودی عرب نے اسرائیل کے تسلیم کرنے پر پاکستان سمیت ممالک کی مشترکہ مخالفت کا ہدف حاصل کیا تھا ، سوڈان میں سعودی حمایت یافتہ سوڈانيز آرمڈ فورسز کا مقابلہ یو اے ای کی حمایت یافتہ ریپڈ اسپورٹ فورسز کر رہی ہیں جبکہ سعودی حمایت یافتہ فورسز سے پاکستان نے اسلحہ فراہمی کا ایک بڑا معاہدہ کیا ہے ۔ یمن کے معاملے پر تو ابھی کل کی بات ہے کہ سعودی عرب اور یو اے ای آمنے سامنے تھے ۔ اب آئیں اس جنگ کی طرف ، ایران کی موجودہ حکومت گر گئی تو ایرانی گیس و تیل کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز تک پر اسرائیلی بالا دستی قائم ہو جائیگی ۔ با الفاظ دیگر پاکستان کی توانائی کے تمام راستے اسرائیل اور انڈیا کے زیر تسلط ہونگے ۔ عرب دنیا میں ایک ہی ملک رہ جائیگا جو اسرائیل کو جلد یا بدیر چیلنج کر سکتا ہوگا یعنی سعودی عرب ۔ مڈل ایسٹ کے نقشوں کی تبدیلی کی اسرائیلی خواہش چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے نقشوں میں تبدیلی نہیں بلکہ سعودی عرب کو ری ڈیزائن کرنے کی بات ہے ، میں نے بہت احتیاط سے لفظ استعمال کیا ہے چاہے وہ ابراہام اکارڈ میں ہی کیوں نہ شامل ہو جائے اتنی بڑی مملکت برداشت نہیں ہوگی ۔ اس تصویر میں مزید رنگ بھریں کہ انڈیا کی مدد سے عدم استحکام افغانستان ، بلوچستان کے ساتھ آیا بیٹھا اسرائیل انڈیا اتحاد اور ایک طرف خود انڈیا جبکہ عرب دنیا میں اسرائیل انڈیا بالا دستی ۔ جب یہ خبر جاری کی گئی کہ سعودی ولی عہد نے ایران پر حملے کا کہا تو میرا تبصرہ تھا کہ وہ اپنے پر خود کش حملہ نہیں کر سکتے اور اس وجہ سے ہی سعودی عرب ایرانی حملوں کے باوجود غیر معمولی تحمل کر رہا ہے کیونکہ اس وقت ایرانی حکومت اور سعودی حکومت کی بقا ایک دوسرے کے ساتھ ہے اور پاکستان کے مفادات بھی اس سے ہی پیوستہ ہیں اس لئے کہ اسرائیل بڑھ رہا ہے۔

تازہ ترین