• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں لبنان اس وقت تنازع کا حصہ بن گیا، جب حزب اللّٰہ نے 2 مارچ کو شمالی اسرائیل پر میزائل حملے کیے۔

تنظیم نے کہا کہ یہ کارروائی 28 فروری کو ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملے کے ردِعمل میں کی گئی، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم لبنان کی ایران کے لیے اہمیت صرف اس جوابی کارروائی تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط اسٹریٹجک اور نظریاتی تعلقات میں پیوست ہیں۔

اس اہمیت کا بنیادی محور حزب اللّٰہ ہے، جسے ایران کا خطے میں سب سے قریبی اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔

حزب اللّٰہ کا قیام 1982ء میں لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد عمل میں آیا تھا، تنظیم کی بنیاد ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے تعاون سے رکھی گئی اور اس نے اسرائیل کے خلاف طویل مسلح جدوجہد کی۔

2000ء میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلاء کے بعد حزب اللّٰہ نے اسے اپنی کامیابی قرار دیا۔

آج حزب اللّٰہ لبنان کی ایک طاقت ور سیاسی اور عسکری قوت سمجھی جاتی ہے، جو بیک وقت ایک سیاسی جماعت اور مسلح تنظیم کے طور پر سرگرم ہے۔

لبنانی فوجی اکیڈمی کے پروفیسر نعیم سالم کے مطابق حزب اللّٰہ عرب دنیا اور پورے خطے میں ایران کی سب سے قریبی نظریاتی اتحادی ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ایران اور حزب اللّٰہ نے ایک دوسرے کو سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت فراہم کی ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں لبنان میں جنگ بندی پر بھی زور دے رہے ہیں کیونکہ ان کے مطابق اسرائیل مسلسل لبنان کی خود مختاری کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، مثال کے طور پر 8 اپریل کو جب امریکا اور ایران نے جنگ بندی کا اعلان کیا تو اسی روز اسرائیلی افواج نے لبنان میں صرف 10 منٹ کے دوران 100 سے زائد فضائی حملے کیے۔

رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں 350 سے زائد افراد ہلاک اور 900 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2 مارچ کے بعد سے اسرائیلی کارروائیوں میں لبنان میں 4,000 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 12 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

مزید برآں اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان میں گزشتہ 3 دہائیوں کے مقابلے میں زیادہ علاقے پر قبضہ بھی کر لیا ہے۔

ماہرین کے مطابق لبنان ایران کی علاقائی حکمتِ عملی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ حزب اللّٰہ ناصرف تہران کا ایک اہم اتحادی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے سیاسی اور سیکیورٹی مفادات کے تحفظ میں بھی مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید