• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انتقام سب کیلئے: ایرانی لیگو ویڈیوز کی امریکا کیخلاف معلوماتی جنگ میں مقبولیت

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

ایران سے تعلق رکھنے والے تخلیق کاروں کی جانب سے تیار کی گئی لیگو طرز کی اینیمیٹڈ ویڈیوز نے امریکا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک نئی ’نریٹو وار‘ کو جنم دیا ہے۔

’الجزیرہ‘ کی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ایرانی لیگو ویڈیوز کم بجٹ کے باوجود اعلیٰ معیار کی ہیں اور عالمی سطح پر ناصرف ناظرین کی توجہ حاصل کر رہی ہیں بلکہ ٹرمپ کے خلاف جنگ کا بیانیہ بھی جیت رہی ہیں۔

ویڈیوز میں کیا دکھایا جا رہا ہے؟

عرب میڈیا کے مطابق ایک وائرل ویڈیو میں لیگو کرداروں کے ذریعے مختلف تاریخی واقعات اور تنازعات کی عکاسی کی گئی ہے، اس میں امریکی پالیسیوں اور جنگوں کے متاثرین کو دکھایا گیا ہے جن میں افریقی نژاد امریکی غلامی کے متاثرین، جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم حملے کے متاثرین، ابو غریب جیل کے قیدی، افغانستان، ویتنام اور عراق کے جنگ متاثرین اور ایران ایئر فلائٹ 655 کے 290 جاں بحق مسافر شامل ہیں۔

ویڈیو کے اختتام پر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے مجسمے گرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں جبکہ اس منظر کے ساتھ پیغام میں درج ہے کہ ’ انتقام سب کے لیے۔‘

تخلیق کار گروپ کون ہے؟

’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیوز ’ایکسپلوسیو میڈیا‘ نامی ایران میں موجود ایک گروپ بناتا ہے جس کے مطابق اس ٹیم میں 19 سے 25 سال عمر کے تقریباً 10 افراد شامل ہیں۔

گروپ کا کہنا ہے کہ وہ آزاد ہے تاہم بعض مقامی میڈیا ادارے ان کا مواد خرید کر نشر کرتے ہیں۔

گروپ کے مطابق ان کا یوٹیوب چینل تشدد کو فروغ دینے کے الزام میں بند کر دیا گیا، جسے وہ آزادیٔ اظہار پر قدغن قرار دیتے ہیں۔

مقبولیت اور پھیلاؤ

29 مارچ کو جاری ہونے والی 1 ویڈیو کو ایکس (سابق ٹوئٹر) پر تقریباً 150,000 بار دیکھا گیا۔

عرب میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسی طرز کی ویڈیوز دیگر تخلیق کار بھی بنا رہے ہیں جن میں پاکستان کے کچھ میڈیا گروپس بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز صرف تفریح نہیں بلکہ ایک مؤثر ’پروپیگنڈا اسٹریٹجی‘ ہیں۔

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ایک پروفیسر کے مطابق ایران کو معلوم ہے کہ وہ عسکری میدان میں امریکا کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اس لیے وہ عالمی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

عرب میڈیا میں شائع کی گئی اسلام آباد کے تجزیہ کار فصیح زکاء کی رائے کے مطابق یہ ویڈیوز امریکی معاشرتی تقسیم، جیسے ایپسٹین اسکینڈل اور ’میگا‘ سیاست، کو نشانہ بنا کر ناظرین کو متاثر کر رہی ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید