عالمی ادارۂ صحت کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2020ء سے 2023ء کے دوران دنیا بھر میں کورونا کی وباء سے جڑی اضافی اموات کی تعداد تقریباً 22.1 ملین رہی، یہ اموات صرف وائرس سے براہِ راست ہلاکتوں تک محدود نہیں بلکہ صحت کے نظام کی تباہی، علاج میں تاخیر اور طبی سہولتوں کی کمی بھی ان کی بڑی وجہ رہی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’اضافی اموات‘ سے مراد وہ اموات ہیں جو عام حالات کے مقابلے میں کسی بحران کے دوران زیادہ ہوں، اس میں کورونا سے براہِ راست ہلاکتیں، اسپتالوں پر دباؤ، دیگر بیماریوں کے علاج میں رکاوٹ اور ہنگامی طبی سہولتوں تک محدود رسائی شامل ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا کے صرف ایک تہائی ممالک ہی اموات کے مستند اعداد و شمار فراہم کر پائے ہیں جبکہ کئی ممالک میں اموات کے درست ریکارڈ کا نظام ہی موجود نہیں۔
2023ء میں دنیا بھر میں تقریباً 61 ملین اموات ریکارڈ ہوئیں مگر ان میں سے صرف ایک تہائی میں وجۂ موت کی تفصیلات شامل تھیں۔
ماہرین کے مطابق وباء کے ابتدائی دنوں میں محدود ٹیسٹنگ، اسپتالوں سے باہر ہونے والی اموات اور مختلف ممالک کے الگ الگ رپورٹنگ نظام کے باعث کورونا سے ہونے والی اصل اموات کی تعداد مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وباء کے دوران کینسر اسکریننگ، ویکسینیشن، دل کے امراض، ذیابیطس اور ذہنی صحت کی سہولتیں شدید متاثر ہوئیں جس سے بالواسطہ اموات میں اضافہ ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اضافی اموات کے اعداد و شمار مستقبل میں وباؤں سے نمٹنے، صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور ہنگامی منصوبہ بندی بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔