• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں ایران کے ایک مضافاتی شہر میناب میں اپنے گھر کے کمرے میں ماں کے پہلو میں سوئی ہوئی تھی۔ باہر سرد ہوا چل رہی تھی۔ امی نے سونے سے پہلے میرے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور کہا،جلدی سو جاؤ عریان صبح اسکول بھی جانا ہے۔میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ رات میری زندگی کی آخری رات ہے۔ صبح جب میں اٹھی تو سورج کی ہلکی روشنی کھڑکی سے اندر آ رہی تھی۔ امی نے میرا یونیفارم استری کر کے رکھا ہوا تھا۔ میں نے جلدی جلدی کپڑے پہنے، بالوں میں ربن لگایا اور آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ ابو دروازے کے پاس کھڑے مسکرا رہے تھے۔’میری بیٹی تو بڑی ہو گئی ہے ایک تصویر تو بنتی ہے‘میں ہنس پڑی۔ ابو نے موبائل سے میری تصویر کھینچی۔ شاید انہیں بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ تصویر ان کے فون میں محفوظ رہنے والی میری آخری مسکراہٹ بن جائیگی۔ میں خوشی خوشی اسکول کیلئے نکل پڑی۔ راستے میں میری دوستیں بھی مل گئیں۔ ہم ہنستے ہوئے اسکول میں داخل ہوئے۔ کلاس روم میں کتابیں کھل گئیں۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ چند لمحوں بعد یہی کلاس روم ملبے کا ڈھیر بن جائے گا۔اچانک آسمان سے ایک عجیب سی آواز آئی۔ پہلے ایک گونج پھر خوفناک دھماکہ۔ زمین ہل گئی۔ دیواریں لرز گئیں۔ شیشے ٹوٹ کر بکھر گئے۔ چند لمحوں میں کلاس روم دھوئیں اور بارود کی بو سے بھر گیا۔ ہم سب مدد کیلئے چیخ رہے تھے ۔ لوہے کے تیز پرزے اور بارود کے ٹکڑے ہمارے جسموں میں پیوست ہو رہے تھے۔ کلاس روم جو چند لمحے پہلے بچوں کی آوازوں سے گونج رہا تھا، اب دردناک چیخوں سے بھر گیا تھا۔ میں نے اپنی ایک دوست کو دیکھاوہ زمین پر پڑی تھی ۔ ایک اور دوست اپنی ماں کو پکار رہی تھی پھر اچانک اس کی آواز بھی خاموش ہو گئی۔ ایک ایک کر کے سب آوازیں مدھم ہونے لگیں۔ میں بھی زمین پر پڑی تھی۔ اس لمحے میرے ذہن میں صرف ایک خیال آیا… امی کو میری فکر ہو رہی ہوگی۔ ابو شاید وہ تصویر دیکھ رہے ہوں گے جو انہوں نے صبح کھینچی تھی۔ پھر میری سانس آہستہ آہستہ رکنے لگی اور پھر ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گئی۔ لیکن جاتے جاتے میں اپنے رب سے پوچھنا چاہتی تھی۔ یا رب ہمارا کیا قصور تھا؟ ہم تو صرف پڑھنے آئے تھے۔ ہمارے ہاتھوں میں کتابیں تھیں، قلم تھے، خواب تھے۔ ہم نے کسی سے جنگ نہیں کی تھی۔ ہم نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ پھر ہمارے خون کا ذمہ دار کون ہے؟

یہ واقعہ 28 فروری 2026 کو ایران کے جنوبی شہر میناب میں پیش آیا جہاں ایک میزائل اسکول کی عمارت پر گرا اور چند لمحوں میں دو منزلہ عمارت ملبے میں بدل گئی۔ اس حملے میں تقریباً ایک سو اسی معصوم بچیاں اور اساتذہ شہید ہو گئے۔ بعد میں دنیا کو بتایا گیا کہ شاید یہ حملہ غلط معلومات یا پرانی انٹلیجنس کی بنیاد پر ہوا تھا۔ عریان کی کہانی صرف ایک بچی کی کہانی نہیں۔ یہ اس طویل سلسلے کی ایک کڑی ہے جو پچھلے پچیس برسوں سے دنیا دیکھ رہی ہے۔ ہر چند سال بعد دنیا کو بتایا جاتا ہے کہ ایک نیا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ 7 اکتوبر 2001 کو افغانستان میں ایک لاکھ ستر ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ 20 مارچ 2003 کو عراق پر حملہ ہوا ،دو لاکھ سے زیادہ شہری جاں بحق ہوئے۔ 2007 سے صومالیہ میں مسلسل فوجی کارروائیاں اور فضائی حملے ہوتے رہے جن میں ہزاروں عام شہری مارے گئے۔ 2011 میں لیبیا پر حملوں کے بعد ریاست ٹوٹ گئی اور ابتدائی لڑائیوں میں تقریباً تیس ہزار لوگ مارے گئے۔ 2014 کے بعد شام پانچ لاکھ سے زیادہ لوگوں کا مقتل بنا۔اس دوران ایک اور المیہ دنیا کی آنکھوں کے سامنے جاری رہا۔ 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ اور فلسطین میں 80 ہزار سے زائد شہید اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ 2026 میں ایران کے مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں اور ان میں ایک سو سے زیادہ معصوم بچیاں بھی شامل ہیں جو اسکولوں میں تھیں۔ ان کے بستے ملبے کے نیچے دب گئے اور ان کے خواب دھوئیں میں تحلیل ہو گئے۔ یہاں آ کر ایک سوال انسان کے دل میں اٹھتا ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ ہر چند سال بعد ایک مسلمان ملک کو دنیا کے سامنے خطرہ قرار دیا جاتا ہے؟ پہلے اسے دہشت گرد کہا جاتا ہے، پھر کہا جاتا ہے کہ وہاں تباہ کن ہتھیار ہیں، اور پھر اس ملک کو جنگ کے شعلوں میں جھونک دیا جاتا ہے۔ افغانستان، عراق،لیبیا،شام،صومالیہ اور اب ایران۔ اور دوسری طرف فلسطین اور غزہ میں روز لاشیں گرتی ہیں۔ ان میں سے کئی جنگوں کے بعدکہا گیا کہ معلومات غلط تھیں، اندازے غلط تھے، انٹلیجنس غلط تھی لیکن شہر ملبہ بن گئے ۔تو کیا اب دنیا کے باقی مسلمان ممالک کو اپنی خیر منانی چاہیےیا اپنی بقا کی ہر ممکن تدبیر ؟؟؟

تازہ ترین