ہر فرد ایک روحانی نظام کا حصہ ہے۔ اس نظام میں اُس کی اہمیت اور کردار قدرت کی طرف سے طے شدہ ہے۔ وہ جس بھی عقیدے کے ساتھ جنم لے اگر اپنے اندرونی روحانی نظام سے جڑت قائم رکھے تو وہی خیالات اور الوہی نظریات اسکے سامنے زندگی کا ایسا نقشہ رکھتے ہیں جو خیر کی کرنوں سے تراشا گیا ہوتا ہے،اس نقشے میں جبر نہیں اپنی فطرت، ماحول اور مزاج کے مطابق لائحہ عمل اور راستہ چُننے کی آزادی ہوتی ہے۔ جبکہ فطرت کے برعکس جانا اپنا استحصال کرنا ہے، ایسی صورت میں ظاہری خوشیاں اور کامیابیاں دیمک کی طرح وجود کو اندر سے کھوکھلا کر کے ڈانواں ڈول کیے رہتی ہیں کیونکہ انسان صرف ظاہر کا نہیں باطن کا باشندہ بھی ہے۔اسی لئے دنیا کو دریافت کرنے سے پہلے خود کو دریافت کرنا اور جاننا ضروری قرار دیا گیا، معاملات تب خراب ہوتے ہیں جب ہمارے ارد گرد بِچھے خود فریبی کے جال ہمیں ودیعت کئے گئے نظام کی مخالف سمت سفر پر اُکساتے ہیں اور ہم اندر کی آواز کے منہ پر ہاتھ رکھ کر مصنوعی قمقموں کی چکاچوند اور شور و غُل سے بھرے منظرنامے کا حصہ بن کر مفعولیت کے عادی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ایک ایسی دنیا جس میں نہ ہماری آواز باقی رہتی ہے ، نہ اندر کی روشنی اور نہ انفرادیت ، ہماری قسمت میں تعاقب رہ جاتا ہے اور پھر ایک دن جب بھاگتے بھاگتے تھک جاتے ہیں تو کٹھ پتلیوں کا رقص سمجھ میں آتا ہے ،لیکن اُس وقت تک زندگی کے صحن پر نامرادی ، ادھورا پن ، خلش اور بے قراری کا قبضہ ہو چکا ہوتا ہے۔طاقت اور دولت کی بھوک میں بھاگتے وجودوں کو اس نامراد کیفیت سے بچانے کیلئے ہر مذہب میں ایسی عبادتوں کے دورانیے موجود ہیں جو ریاضت ، تقویٰ اور ذات کی تطہیر سے عبارت ہیں۔تھوڑی دیر ٹھہر کر سوچنے اور محاسبے کی ترغیب کے ساتھ پرانی میل کو دھونے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔
رمضان بھی ایک ایسا ہی دورانیہ ہے جو اجر وثواب سے کہیں زیادہ روحانی اسراروں اور فیوض سے بھرا ہوا ہے، ہر لمحہ حالتِ خیر میں رہنا ازخود ایک انعام اور برکت ہے، میرے لئے رمضان ہمیشہ سے ایک منفرد کیف و سرور اور اطمینان سے بھرا مہینہ رہا ہے ،جسے بہت بچپن میں اجر وثواب کی سوجھ بُوجھ اور فرض ہو جانے سے پہلے ہی وجود نے خود پر لاگو کیا اور وقت گزرنے کے ساتھ کبھی اس استقامت میں کمی نہیں آئی بلکہ ہرسال رمضان مجھے نئے ڈھنگ سے مالا مال کرتا رہا۔اس مرتبہ میں نے رمضان ایک ایسی سہولت اور سادگی کے ساتھ گزارا کہ اس کا ذکر آپ سب سے کرنا ضروری محسوس ہوتا ہے، کیونکہ اس انداز میں ملنے والا اطمینان اور خوشی واقعی بہت معنی خیز تھی،خدا کا شکر ہے کہ ان تمام روزوں میں اپنی فکر کو الجھنوں کے بجائے میں نےیقین کے الوہی دھاگے کے ساتھ باندھے رکھا، ذاتی ، ملکی اور کائناتی سطح پر درپیش وسوسوں ، اندیشوں اور بے یقینی کو نہ گھر کے باہر جمع ہونے دیا اور نہ دل کے اندر جگہ بنانے دی۔دنیا میں جاری جنگوں اور باہمی رنجشوں کے شور میں منفی قوتوں کے پھیلائے ہوئے پروپیگنڈوں کا حصہ بننے کے بجائے انسانیت کی بقا اور اپنے ملک کی خیر کیلئے دعا کو ترجیح دی،جس قدر ممکن ہوا، اپنے حلقۂ درویشاں میں موجود اُن احباب کی مدد کی جو کبھی صاحبِ دولت و فن تھے، اپنے قریبی دوستوں کو بھی اُن سفید پوش ضرورت مندوں کے نمبر بھیج کر اُن کے دھیان پر دستک دی۔
سوشل میڈیا پر ہر وہ اکاؤنٹ جس کا مواد ہمارے اخلاقی، سیاسی اور سماجی نظام سے مطابقت نہیں رکھتاتھا، جس کا مقصد ذاتی زندگی کی پرائیویسی کو اچھال کر محض ویوز حاصل کرنا اور جھوٹی خبریں پھیلا کر لوگوں کو ہیجان میں مبتلا کرنا تھا پر تبصرہ کرنے کے بجائے اسے دیکھتے ہی بلاک کر دیا۔ اردگرد موجود منفی کرداروں، فضا میں اُڑتے منافقت سے بھرے لفظوں اور رویوں سے سامنے کی صورت خود کو صرف ایک مختصر سلام تک محدود رکھا۔کم غذا کھائی اور زیادہ کام کیا، یوگا اور میڈی ٹیشن کے ذریعے اپنے وجود ،خیال اور وجدان کو باہم مربوط رکھنے کی بھرپور کوشش کی، خود کو کسی بھی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن دیکھنے کا موقع ہی نہ دیا، شب و روز ایک خاص روحانی رنگ میں رنگے ہوئے تھے، اس لیے اس کیفیت کی سرخوشی کو اہمیت دی اور خود پر ضبط رکھتے ہوئے کسی ٹی وی پروگرام میں جانے کی روادار بھی نہ ہوئی۔صرف چند قریبی دوستوں کی مختصر افطار میں شرکت ممکن ہوئی۔تاہم اُن تمام دوستوں، خیرخواہوں اور نیک روحوں سے معذرت کہ جن کے بلاوے پر رمضان کے علمی، روحانی اور عید پروگراموں کی ریکارڈنگز میں جانا ممکن نہ ہو سکا۔درحقیقت کبھی کبھی اپنی ذات سے ہم آہنگی کیلئے زندگی کی رفتار سے تھوڑا سا بریک لینا بھی ضروری ہوتا ہے۔ خوش رہیے۔