• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ امتحانِ انا الحق جہاں میں عام نہیں

ہمارے عشق کا سودا خیالِ خام نہیں

​نمرود کو مار کے مرنے کا شوق ہے ہم کو

شہادتوں کا ہمیں شوق ہے لگام نہیں

​کسی کے پیکرِ خاکی کے ختم ہونے سے

کسی کا عزمِ مصمم تو ناتمام نہیں

غرور کی اینٹ کا پتھر جواب بنتا ہے

عمیر وہ ظالم نشانہ تو انتقام نہیں

حیثیتِ شہادت کا استعارہ ہے

حسینیت کی مظلومیت کا پیام نہیں

​وہ جن کی قوتِ حق کے لیے دوام ہوتی ہے

کبھی بھی ان کیلئے زندگی کی شام نہیں

​غمِ حسین سے میرے سخن کو نسبت ہے

کسی یزید سے اس کو کوئی کلام نہیں

​تبلیغ کے منزلِ مقصود پر ہی دم لیں گے

مسافروں کا کہیں راہ میں قیام نہیں

​یہ بات کس طرح سمجھاؤں اہلِ مکتب کو

کہ آدمی کا یہاں عارضی مقام نہیں

یوں لوگ موت کے کرتے ہیں فیصلے جیسے

خدا کے فیصلے میں اب اس کا انتظام نہیں

​خلیج کیا ہے وہ اپنے مقام پر اسلم ؔ

اب اس سے آگے کوئی عشق کا مقام نہیں

تازہ ترین