اس وقت جو عناصر پاکستانی فوج، حکومت اور ریاست کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کر کے عوام کو انتشار اور توڑ پھوڑ پر اُکسا رہے ہیں ،بظاہر ان کا مطالبہ ہے کہ پاکستان دنیا سے قطع تعلق کرتے ہوئے ایران کی حمایت میں اسرائیل پر ایٹمی حملہ ہی کردے، مگر اندر خانے وہ پاکستان کی بقا اور استحکام کے اصل دشمن ہیں، ان کا مقصد ملک کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلنا ہے جسکے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں،یہ عناصر نہ ایران کے حقیقی خیرخواہ ہیں اور نہ حضرت امام حسینؓ کے فلسفۂ حق و صداقت سے انکا کوئی سروکار ہے اور نہ ہی عالمی منظرنامے کی پیچیدگیوں سے واقفیت ان کا مسئلہ ہے۔ انکا مقصد صرف پاکستان میں فساد اور خانہ جنگی کی فضا پیدا کر کے،غیر یقینی حالات پیدا کر کے من پسند شخص کی تاج پوشی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں انکی کئی منفی کوششیں اسلیے ناکام ہوئیں کہ عوام نے انکے بیانیے کو سرے سے مسترد کر کے ملکی مفاد کو اہمیت دی ، اب یہ عقیدے کی آڑ میں جھوٹی افواہیں پھیلا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انکا مقصد پُرامن احتجاج ہوتا تو کسی کو کیا اعتراض تھا مگر یہ تشدد کے بیوپاری ہیں، جب ہم اسلامی اور ہمسایہ ممالک سے تعلقات کی بات کرتے ہیں تو ایران ہمیں دل کے قریب اسلئے محسوس ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ ہماری لسانی ،ثقافتی اور ادبی سانجھ زیادہ مضبوط ہے ،عربوں سے ہمارا عقیدت کا رشتہ ہے تو ایران سے اخلاص کا،پاکستان ایک نوزائیدہ ملک ہے مگر ایران کے ساتھ ہمارے علمی، ادبی اور ثقافتی مراسم صدیوں پر محیط ہیں، برصغیر کی تقریباً تمام زبانوں کی شاعری ،تصوف اور علمی ادبی تحریکوں پر فارسی ادب کا اثر نمایاںہے، جسکے باعث ہر پاکستانی خواہ وہ شیعہ ہو ،سُنی ہو یا کسی اور عقیدے کا پرچارک ، ایران کے ساتھ ایک گہرا فطری اورجذباتی تعلق رکھتاہے۔اس تعلق کی بنا پر ایران پر گزرنے والی ہر کرب کی گھڑی ہمارے دل کو ملول کرتی ہے،تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عالمی سیاست جذبات پر نہیں ملکی اور علاقائی مفادات پر استوار ہوتی ہے، کوئی ملک کسی دوسرے سے کتنا ہی قریب کیوں نہ ہو وہ براہ راست کسی کی جنگ نہیں لڑتا، کسی حد تک تعاون کر سکتا ہے۔ شروع کے بیس پچیس سال ایران کی پاکستان کے ساتھ دکھ سکھ میں شراکت داری رہی،جس کی جھلک انڈیا سے جنگوں میں دیکھی گئی مگر1979 کے بعد پاکستان میں ضیاالحقی نظام اور ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد خطے میں کئی پیچیدگیوں اور بلاکوں کا جنم ہوا، جسکے باعث حکومتی سطح پر دوستی کے تعلقات پرجوش نہ رہے، بعض مواقع پر ایران کی علاقائی حکمت عملی اور توسیع پسندانہ رجحانات نے دیگر اسلامی ممالک کی طرح پاکستان کے بعض علاقوں میں بھی استحکام کوزک پہنچانے میں کردار ادا کیا، جس سے غلط فہمیاں جنم لیتی رہیں ،شکوے ہوتے رہے مگر کبھی آمنے سامنے نہ آئے۔دنیا کا ہر ملک اپنے وجود کے استحکام ، آزادی اور بقا کا حق رکھتا ہے، اس ترقی یافتہ دور میں دوسروں کو مٹانے کے بیانیے کی بجائے باہمی تسلیم اور بقائے باہمی کی روایت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہونی چاہیے تھی مگر جنگل کے قانون کی طرح کمزور کو ہڑپ کرنے کی پالیسیاں جاری ہیںاور کوئی محفوظ نہیں ،کہیں معاشیات کی جنگ ہے اور کہیں عقیدے کے غلبےکی۔ ارد گرد اسٹیج ہوئے نازک منظرنامے میں پاکستان کا کردار نہایت اہم اور مشکل ترین ہے۔ خود کو بارود کی تپش سے بچاکر بھی رکھنا ہے اور مسلمان ملکوں کے تصادم کو بھی روکنا ہے۔ اب تک جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنےکیلئے پاکستان قابلِ ستائش سفارت کاری کر رہا ہے۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں اور انکا مقصد واضح اور مثبت ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران پر حملے کی مذمت ہو یا مختلف عالمی طاقتوں ،عرب ممالک، چین اور یورپی ریاستوں سے رابطے، پاکستان کشیدگی کم کرنے کیلئے ہر سطح پر دوڑ دھوپ کر رہا ہے ،دوسری طرف اندرونی و بیرونی سطح پر دہشت گردی اور عدم استحکام کے کئی محاذوں کو پسپا کرنے میں بھی مصروف ہے ، ایسے میں بیرونِ ملک بیٹھے بعض شدت پسند عناصر جو کسی خاص کلٹ یا سیاسی وابستگی کے زیرِ اثر ہیں نے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے اشتعال انگیزی اور انتشار کو ہوا دینے کی مذموم مہم چلا رکھی ہے، ان کا طرزِ عمل نہ ایران یا فلسطین سے حقیقی ہمدردی کا عکاس ہے اور نہ ہی کسی اصولی مؤقف کا بلکہ صرف داخلی تقسیم اور کمزوری کا آئینہ دار ہے۔ ریاست کو اس نوعیت کی سرگرمیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور انکے آگے بند باندھنا چاہیے سفارتی سطح پر متعلقہ ممالک کے ساتھ باضابطہ رابطہ کرنا چاہیے ، شواہد کے ساتھ شکایات اور قانون کے مطابق کارروائی ایسے اقدامات ہیں جو اس رجحان کی حوصلہ شکنی کر سکتے ہیں، اس ضمن میں اقوام متحدہ کے سائبر کرائم اور دہشت گردی سے متعلق فریم ورکس سے بھی رہنمائی لی جا سکتی ہے۔ ملک کے اندر مذہبی خطبات اور سیاسی تقاریر میں نفرت، اشتعال اور تقسیم پیدا کرنے والے بیانیے کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جائے، اظہارِ رائے کی آزادی اپنی جگہ اہم ہے مگر قانون کی حدود کے احترام کے ساتھ، جہاں گفتگو تشدد، نفرت اور بغاوت پر اکسانے کا باعث بنے وہاں مؤثر اور غیر امتیازی عملدرآمد ناگزیر ہے،دنیا میں امن کے خواب کو حقیقت بنانے کیلئے سب سے پہلے اپنے معاشرے کے اندر موجود انتشار کے بیجوں کو ختم کرنا ہوگا ، یہ کام جذباتی ردِعمل کی بجائے قانون، حکمت اور انصاف کے ساتھ ہی پائیدار ہو سکتا ہے۔