• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کندھے کے درد کو نظر انداز نہ کریں، یہ جگر کے کینسر کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتی ہے، ماہرین

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ کندھے کے درد کو صرف پٹھوں کا کھنچاؤ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں، یہ جگر کے کینسر کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ 

اگرچہ کندھے میں ہلکا سا مسلسل درد عام لگ سکتا ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بعض اوقات کینسر کی ایک چھپی ہوئی علامت ہو سکتا ہے۔ 

ماہرین کے مطابق دائیں کندھے میں مسلسل فرضی یا غیر واضح درد بعض صورتوں میں جگر کے کینسر کی نشاندہی کر سکتا ہے، حتیٰ کہ جب بازو خود بالکل ٹھیک محسوس ہو۔ جگر کا کینسر جو پہلے زیادہ تر عمر رسیدہ افراد میں ہوتا تھا، اب 30 اور 40 سال کی عمر کے افراد میں بھی تیزی سے سامنے آ رہی ہے، جس نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ 

اندازہ ہے کہ 2050 تک اس بیماری کے کیسز دگنے ہو سکتے ہیں، جس سے یہ صحت کا ایک بڑا عالمی مسئلہ بن سکتی ہے۔ یہ بیماری پہلے ہی برطانیہ میں تیزی سے بڑھ رہی ہے، مگر اس کی علامات اکثر مبہم ہوتی ہیں اور آسانی سے نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔ برطانیہ میں ہر سال تقریباً 6,000 افراد میں اس کی تشخیص ہوتی ہے، جبکہ گزشتہ دہائی میں اس کی شرح میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔

چیک ری پبلک کے دارالحکومت پراگ کے پروٹون تھراپی سینٹر کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر جیری کوبس کے مطابق ایک اہم علامت کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے یا نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ جگر کا کینسر بعض اوقات فرضی درد پیدا کرتا ہے جیسے کہ تکلیف پیٹ میں ہونا چاہیے مگر یہ کندھے میں محسوس ہوتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ جگر ایسے اعصاب کے قریب ہوتا ہے جو کندھے سے جڑے ہوتے ہیں، اس لیے جلن یا تکلیف جسم کے کسی اور حصے میں محسوس ہو سکتا ہے۔

یہ درد عموماً دائیں ہاتھ کی جانب ہوتا ہے اور وقفے وقفے سے آتا جاتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ 

ڈاکٹر کوبس کے مطابق بہت سے لوگ اسے ورزش یا غلط نشست و برخاست کا نتیجہ سمجھ لیتے ہیں، خاص طور پر اگر وہ بظاہر صحت مند ہوں۔ تاہم جگر کا کینسر اب برطانیہ میں کینسر سے ہونے والی اموات کی تیزی سے بڑھتی ہوئی وجوہات میں شامل ہے، جس میں طرز زندگی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

جگر کے کینسر لاحق ہونے کے اہم خطرات میں طویل عرصے تک الکحل کا استعمال، موٹاپا، فیٹی لیور کی بیماری، ہیپاٹائٹس بی اور سی انفیکشن اور سگریٹ نوشی شامل ہیں۔ ان میں سے بہت سے عوامل جگر کو خاموشی سے نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔ 

ڈاکٹر کوبس نے کہا کہ جگر کے کینسر کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس کی ابتدائی علامات بہت معمولی ہوتی ہیں۔ 

ماہرین کے مطابق اس بیماری کے بہت سے کیسز سے بچاؤ ممکن ہے۔ اس میں احتیاطی تدابیر جیسے کہ صحت مند وزن برقرار رکھنا، الکحل استعمال نہ کرنا اور ہیپاٹائٹس سے بچاؤ شامل ہیں۔ یہ تمام اقدامات خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں۔

صحت سے مزید