• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسولین کی گولیاں جلد انجیکشن کا متبادل بن سکتی ہیں، سائنس دانوں کے حوصلہ افزا نتائج

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

سائنس دانوں نے ایک اہم پیش رفت میں ایسا اورل انسولین نظام تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو ذیابیطس کے مریضوں کو روزانہ انجیکشن سے نجات دلا سکتا ہے۔

یہ نئی ٹیکنالوجی انسولین کو نظامِ ہاضمہ میں ٹوٹنے سے محفوظ اور اسے خون میں مؤثر طریقے سے جذب ہونے میں مدد دیتی ہے، جس سے ذیابیطس کے علاج میں آسانی کی امید ظاہر ہوئی ہے۔

ایک صدی سے زائد عرصے سے ماہرین انسولین کو گولی کی شکل میں منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عام طور پر نظامِ ہاضمہ میں موجود انزائمز انسولین کو اس کے مؤثر ہونے سے پہلے ہی توڑ دیتے ہیں، جبکہ آنتوں میں اسے خون میں جذب کرنے کا قدرتی طریقہ بھی موجود نہیں ہوتا۔

جاپان کی کوماموتو یونیورسٹی کے محققین نے اس مسئلے کا ممکنہ حل پیش کیا ہے۔

انہوں نے ایک خاص قسم کے سائیکلک پیپٹائڈ، جسے ’ڈی این پی پیپٹائڈ‘ کہا جاتا ہے، استعمال کیا جو چھوٹی آنت سے گزر کر خون میں داخل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تحقیق کے دوران 2 طریقے آزمائے گئے، ایک میں انسولین کو پیپٹائڈ کے ساتھ ملایا گیا، جبکہ دوسرے میں دونوں کو کیمیائی طور پر جوڑا گیا، دونوں طریقوں کے نتیجے میں ذیابیطس کے شکار چوہوں میں خون میں شوگر کی سطح کم ہوئی۔

اہم بات یہ ہے کہ اس نئے نظام میں تقریباً 33 سے 41 فیصد تک بایوایویلیبیلٹی حاصل کی گئی، جو کہ روایتی انجیکشنز کے مقابلے میں نمایاں پیش رفت ہے، جبکہ ماضی کی اوورل انسولین کوششوں میں اس کے لیے زیادہ مقدار درکار ہوتی تھی۔

یہ بہتری گولی کی صورت میں انسولین کے عملی استعمال کو ممکن بنانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔

اگرچہ یہ نتائج ابتدائی مرحلے میں ہیں اور جریدہ مولیکیولر فارماسیوٹکس میں شائع ہوئے ہیں، تاہم انہیں ذیابیطس کے آسان اور مؤثر علاج کی جانب ایک امید افزا پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

انسانوں پر آزمائش سے قبل اس طریقہ کار کو بڑے ماڈلز پر مزید جانچنے کا عمل جاری ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید