ناسا کے ایک خلاء باز کی جانب سے شیئر کی گئی عجیب و غریب تصویر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی، جسے ابتدا میں ’خلائی مخلوق کا انڈہ‘ سمجھا جا رہا تھا، مگر حقیقت کچھ اور ہی نکلی۔
تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر موجود خلاء باز نے ایک ایسی تصویر شیئر کی جس میں جامنی رنگ کے انڈے سے نکلتی ہوئی کسی مخلوق جیسی شکل دکھائی دے رہی تھی۔
بعد ازاں خلاء باز نے وضاحت کی کہ یہ کوئی خلائی مخلوق نہیں بلکہ ایک عام آلو ہے، جس سے نکلنے والی جڑیں مائیکرو گریویٹی (کم کششِ ثقل) کے باعث عجیب شکل اختیار کر گئی تھیں۔
خلاء باز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کا نام مزاحیہ انداز میں اسپوڈنک 1 رکھا اور بتایا کہ آلو کو ایک خاص ویلکرو ہُک کے ذریعے ایک عارضی روشنی والے نظام میں باندھا گیا تھا تاکہ وہ خلاء میں اگ سکے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اس تجربے کا خیال دی مارشین سے آیا، جس میں خلاء میں آلو اگانے کا تصور پیش کیا گیا تھا۔
خلاء باز کے مطابق آلو غذائیت کے لحاظ سے نہایت مؤثر فصل ہے اور مستقبل میں خلائی مشنز کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ناسا پہلے بھی خلاء میں پودے اگانے کے تجربات کر چکا ہے، جس میں لیٹش، کیل اور زینیا پھول شامل ہیں، تاکہ خلاء بازوں کو اضافی غذائیت فراہم کی جا سکے۔