امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی ایران سے جاری جنگ سے متعلق صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کے لیے کی گئی ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو میں شرکت کی۔
رپورٹ کے مطابق یہ فون کال منگل کے روز ہوئی اور یہ ایران پر اسرائیل اور امریکا کی فوجی کارروائیوں کے آغاز (28 فروری) کے بعد دونوں عالمی رہنماؤں کے درمیان پہلی براہِ راست بات چیت تھی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ ایلون مسک اس گفتگو کا حصہ تھے جو جنگی بحران کے دوران کسی نجی شہری کی غیر معمولی شمولیت سمجھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بیان میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِاعظم نریندر مودی کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں اور گفتگو نتیجہ خیز رہی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایلون مسک کو کال میں کیوں شامل کیا گیا یا آیا اُنہوں نے گفتگو میں حصہ لیا بھی یا نہیں تاہم اس پیش رفت کو ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ سال سرکاری عہدہ چھوڑنے کے بعد دونوں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق گفتگو کے دوران بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے آبنائے ہرمز کو کھلا، محفوظ اور قابلِ رسائی رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ یہ عالمی امن، استحکام اور معاشی بہتری کے لیے نہایت ضروری ہے۔