عرب میڈیا نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان فوجی تعاون جاری ہے تاہم ماسکو کی مدد محدود نوعیت کی ہے اور وہ براہِ راست جنگ میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ روس شاید ایران کی ’تھوڑی بہت‘ مدد کر رہا ہے، اس کے ایک دن بعد ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے روس کے ساتھ فوجی تعاون کو ’اچھا‘ قرار دیا جس سے دونوں ممالک کے روابط کی تصدیق ہو گئی تھی۔
’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق روس ایران کو امریکی جنگی جہازوں اور طیاروں کی نقل و حرکت سے متعلق سیٹلائٹ اور انٹیلیجنس معلومات فراہم کر رہا ہے۔
اس سے متعلق ماہرین کی رائے ہے کہ یہ معلومات روس کے جاسوسی سیٹلائٹ نظام لیانا سے حاصل ہو سکتی ہیں جو خاص طور پر امریکی بحری بیڑوں کی نگرانی کے لیے بنایا گیا تھا۔
روس نے ایران کے خلائی پروگرام میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، ایران کا سیٹلائٹ خیام 2022ء میں روسی لانچ سائٹ بائیکونور سے خلاء میں بھیجا گیا تھا جو زمین کی اعلیٰ معیار کی تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق روس کئی دہائیوں سے ایران کو فضائی دفاعی نظام، جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر فوجی ساز و سامان فراہم کرتا آ رہا ہے، حالیہ کشیدگی کے دوران بھی روس ایران کو انٹیلیجنس، جنگی ماہرین اور ہتھیاروں کے پرزہ جات فراہم کر رہا ہے۔
دوسری جانب یوکرین جنگ کے بعد ایران نے بھی روس کو گولہ بارود، ہتھیار، حفاظتی سامان اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل فراہم کیے ہیں۔
یوکرین جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے ایرانی شاہد خودکش ڈرونز کو روس نے مزید جدید بنایا ہے، اِن میں کیمرے، بہتر نیویگیشن اور اینٹی جیمنگ سسٹم شامل کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق روسی نیویگیشن ماڈیول ’کومیٹا بی‘ سے لیس ایک ڈرون حال ہی میں ایران کے ایک حمایتی گروپ کی کارروائی میں استعمال ہوا جس سے اس تعاون کی عملی مثال سامنے آئی ہے۔
روس نے یوکرین جنگ میں بڑی تعداد میں اصلی اور نقلی ڈرون ایک ساتھ بھیجنے کی حکمتِ عملی تیار کی جسے اب ایران بھی استعمال کر رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس ایران کو مکمل فوجی حمایت نہیں دینا چاہتا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ دفاعی معاہدہ موجود نہیں ہے، اس کے علاوہ ایران کے پاس ڈرونز کی کمی بھی بتائی جا رہی ہے جس کے باعث روسی معلومات کا فائدہ محدود ہے۔
روس کی موجودہ مدد زیادہ تر ’علامتی‘ یا سفارتی نوعیت کی ہے تاکہ اتحاد کا تاثر برقرار رکھا جا سکے۔
علاقائی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں 100 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں جس سے روسی معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور یوکرین جنگ جاری رکھنے کے لیے مالی وسائل مل رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق روس ایران کو انٹیلیجنس اور تکنیکی مدد تو فراہم کر رہا ہے مگر فیصلہ کُن فوجی حمایت نہیں دے رہا۔