• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کے خلاف جنگ بڑھی تو براہِ راست کارروائی کریں گے: حوثیوں کی سخت وارننگ

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

ایران کے حمایتی یمنی گروہ حوثیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ میں مزید ممالک شامل ہوئے یا بحیرۂ احمر کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کیا گیا تو وہ براہِ راست فوجی مداخلت کریں گے۔

عرب میڈیا کے مطابق حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایک ٹی وی خطاب میں کہا ہے کہ گروہ کی ’انگلیاں ٹریگر پر ہیں‘ اور کسی بھی نئے عسکری اتحاد کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے گی۔

اُنہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف کشیدگی بڑھنے پر بھی ردِعمل دیا جائے گا تاہم کارروائی کی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔

یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ بحیرۂ احمر کو ایران یا کسی بھی مسلم ملک کے خلاف ’جارحانہ کارروائیوں‘ کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انہوں نے یمن کے خلاف مبینہ ناکہ بندی سخت کرنے سے بھی خبردار کیا ہے۔

یحییٰ سریع نے امریکا اور اسرائیل سے ایران، فلسطینی علاقوں، لبنان اور عراق پر حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق اس بیان کے بعد خطے میں بڑی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں کیونکہ حوثیوں کے پاس یمن سے باہر اہداف کو نشانہ بنانے اور جزیرہ نمائے عرب کے اردگرد اہم بحری گزرگاہوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

واضح رہے کہ حوثی گروہ 2014ء سے یمن کے دارالحکومت صنعاء اور شمال مغربی علاقوں کے بڑے حصے پر قابض ہے، اکتوبر 2023ء میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں جہازوں کو نشانہ بنایا اور اسرائیل پر ڈرون و میزائل حملے کیے تھے جنہیں اُنہوں نے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی قرار دیا تھا۔

اس دوران اسرائیل اور امریکا نے یمن میں متعدد حملے کیے جن میں بنیادی ڈھانچے، رہائشی عمارتوں اور مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔

مئی میں امریکا اور حوثیوں کے درمیان جنگ بندی طے پائی تھی جس کے تحت حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں امریکی جہازوں پر حملے روکنے پر اتفاق کیا تھا۔ 

بعد ازاں غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے بعد اسرائیل اور اسرائیل سے منسلک جہازوں پر حملے بھی روک دیے گئے تھے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید