ایران سے منسلک ہیکرز گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے ذاتی ای میل اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لی ہے اور ان کی تصاویر اور دستاویزات آن لائن جاری کر دی ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران سے منسلک گروپ نے خود کو فلسطین کا حمایتی گروپ ’ہنڈالا ہیک ٹیم‘ قرار دیا ہے، گروپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کاش پٹیل اب ان افراد کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں جنہیں کامیابی سے ہیک کیا گیا۔
خبر رساں اداروں ’رائٹرز‘ اور ’سی این این‘ نے سیکیورٹی حکام اور باخبر ذرائع کے حوالے سے ہیکنگ کے واقعے کی تصدیق کی ہے تاہم ایف بی آئی اور محکمۂ انصاف کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق لیک ہونے والی بعض ای میلز 10 سال سے زیادہ پرانی ہیں جن میں سفری تفصیلات اور کاروباری خط و کتابت شامل ہے، جاری کی گئی تصاویر میں کاش پٹیل کو ایک قدیم اسپورٹس گاڑی کے ساتھ سگار پیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ کاش پٹیل نے 2025ء میں ایف بی آئی کے 9ویں ڈائریکٹر کے طور پر عہدہ سنبھالا تھا، ان کی قیادت پہلے ہی تنازعات کا شکار رہی ہے جہاں ناقدین نے ان پر ذاتی سفر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیحات کے لیے ادارے کے استعمال کے الزامات عائد کیے تھے۔
’ہنڈالا ہیک ٹیم‘ نے طبی آلات بنانے والی کمپنی اسٹرائیکر پر حالیہ سائبر حملے کی ذمے داری بھی قبول کی ہے، مغربی سائبر ماہرین کے مطابق یہ گروپ ایرانی سائبر انٹیلیجنس سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق گروپ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی جنوبی ایران کے شہر میناب میں بچوں کے اسکول پر مبینہ امریکی اسرائیلی حملے کے ردِعمل میں کی گئی ہے جس میں 170 سے زائد افراد، زیادہ تر طالبات شہید ہوئی تھیں۔
ہیکرز نے خبردار کیا کہ یہ کارروائی ’سائبر جنگ کے نئے باب‘ کا آغاز ہے جبکہ ایران مغربی معاشی مفادات پر حملے بڑھانے کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔