برطانوی وزیر خارجہ یویٹ کوپر نے ایران کی جانب سے ہمسایہ ممالک پر حملوں اور عالمی جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو عالمی معیشت کو ’یرغمال‘ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
پیرس میں جی 7 وزرائے خارجہ اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے پر رکاوٹ ڈالنا بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے خلاف ہے، جہاں آزادیٔ جہاز رانی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، اس اہم راستے کی بندش سے عالمی معیشت اور تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کا فوری حل ضروری ہے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا عالمی ترجیح ہے، 30 سے زائد ممالک اس حوالے سے مشترکہ حکمت عملی پر بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اس بحران کے حل کے لیے سفارتکاری اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
خیال رہے کہ آبنائے ہرمز کی اہمیت دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے۔ مارچ کے آغاز سے اس راستے میں رکاوٹ کے باعث شپنگ اخراجات میں اضافہ ہوا اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔