صد شُکر کہ میرا وطن پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر حالیہ عالمی اور علاقائی کشیدگی میں نہایت متوازن اور مدبرانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی تناؤ کی فضا اور بارود کے شعلوں میں پاکستان نے امن کی بارش کیلئے تن من سے جستجو کی۔ دانشمندانہ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے نہ صرف خود کو اس جنگ سے دور رکھا بلکہ خطے کے دیگر ممالک خصوصاََ سعودی عرب کو بھی تحمل اور تدبر کا راستہ اپنانے کی ترغیب دی۔یہ طرزِ عمل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان محض ایک فریق نہیں بلکہ امن کا ضامن اور استحکام کا خواہاں ایک سنجیدہ کردار ہے جس پر آنکھیں بند کر کے اعتماد کیا جا سکتاہے۔اس تمام صورتحال میں شہباز شریف ،اسحاق ڈار اورجنرل عاصم منیر کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ہے۔انہوں نے نہایت فہم و فراست کے ساتھ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور خطے و عالمی طاقتوں سے معاملات کو ایک مثبت، فعال اور متوازن سمت دی، انڈیا کی طرح چُھپ کر وار کرنے اور سازشیں بُننے کی بجائے نیک نیتی سے خیر کے رستے پر سفر جاری رکھنے کی کوشش کی ۔ان کی تمام کاوشیں عملی اور منطقی تھیں محض رسمی بیانات تک محدود نہیں تھیں اس لئے دنیا متاثر ہوتی چلی گئی اور دل موم ہوتےگئے۔یہ تینوں مسلسل متحرک رہے، انکے مثبت اقدامات، مؤثر رابطہ کاری اور بروقت فیصلوں نےمختلف عالمی اور علاقائی قوتوں کے ساتھ روابط کو نہ صرف بحال کیا بلکہ انہیں اعتماد اور تعاون کی نئی سطح تک لے جانے کی کوشش کی۔ پاکستان کی سفارت کاری کی سب سے نمایاں خوبی تحمل، بردباری اور حقیقت پسندی ہے جسے ہر سمت سے سراہا جا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے عرب ممالک پر بار بار میزائل حملوں کے باوجود پاکستان نے مایوسی یا اشتعال کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ مستقل مزاجی کیساتھ سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔دفاعی معاہدے میں بندھے سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک کو بھی تنازع میں شدت اختیار کرنے سے روکنے میں پاکستان کا کردار نہایت مثبت رہا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں توازن برقرار رکھنے اور رہنمائی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتاہے ۔اسی تناظر میں ایران کی جانب سے پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو Strait of Hormuz سے گزرنے کی اجازت دینا ایک مثبت اور تعمیری پیش رفت ہے جو دل سے کی گئی سفارت کاری کی کامیابی کا واضح مظہر ہے۔یہ اقدام نہ صرف علاقائی استحکام کو فروغ دے گا بلکہ باہمی اعتماد کی فضا کو بھی مزید مضبوط کرے گا اورماضی کے گلے شکوے بُھلا کر اخلاص کی راہ پر چلنے کی راہ ہموار کرے گا۔ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی پاکستان کی حیثیت اس تمام خطے میں کلیدی اور اہم رہے گی کیونکہ عالمی برادری اس پر اعتماد کرتی ہے۔پاکستان نے ماضی میں بھی مشکل ترین حالات کا سامنا کیا ہے اور ان سے نکل کر ترقی کے سفر پر گامزن ہے ، چند سال پہلے معاشی تنزلی اور تنہائی کا شکار ملک دنیا کی آنکھوں کا تارا بنتا جا رہاہے اسکی وجہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کا واقعتاََ ایک پیج پر ہونا اور ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔
روس افغانستان اور امریکہ کی جنگ کے باعث گزشتہ پچیس برسوں میں پاکستان نے بے شمار معاشی اور جانی نقصانات اٹھائے۔اگرچہ ان نقصانات کی تفصیل ایک الگ داستان ہے مگر اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ وہ ناقدری اور تنہائی تھی جس کا سامنا پاکستان کو عالمی سطح پر کرنا پڑاحالانکہ پاکستان خود بھی ان حالات کا متاثرہ فریق تھا لیکن اس کے باوجود اسے شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا گیا۔بیرونِ ملک سفر کے دوران پاکستانی پاسپورٹ کے ساتھ جو تذلیل بھرے رویے دیکھنے کو ملتے تھے، وہ اس ناقدری کی خاموش مگر گہری عکاسی کرتے تھے۔ لوگوں کی نگاہوں اور برتاؤ میں ایک عجیب سی بے توقیری جو ہر حساس دل کیلئے باعثِ اذیت تھی۔مگر آج صورتحال بدل چکی ہے۔موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت کی نیک نیتی، حکمتِ عملی اور مسلسل کوششوں نے پاکستان کو اس تاریک سفر سے نکال کر عالمی سطح پر ایک مثبت اور باوقار مقام دلایا ہے۔آج پاکستان نہ صرف بے بنیاد الزامات سے بڑی حد تک بری الذمہ ہو چکا ہے بلکہ دنیا اس کی اصل حیثیت اور اہمیت کو بھی تسلیم کرنے لگی ہے۔اس تبدیلی کی ایک جھلک یومِ پاکستان کے موقع پر دیکھنے کو ملی جب دنیا کے سو سے زائد ممالک میں پاکستان سے محبت اور یکجہتی کے مناظر سوشل میڈیا اور ٹی وی اسکرینوں پر فخر سے جھلملاتے نظر آئے۔یہ ایک دن کی خوشی نہیں بلکہ ایک قوم کے وقار کی بحالی کا اظہار تھا۔حقیقت یہ ہے کہ قوموں کی زندگی میں اگر افتخار اور خود اعتمادی کا احساس باقی نہ رہے تو ان پر عجیب طرح کی مُردنی چھا جاتی ہے جو دیمک بن کر حوصلوں کو کھاتی رہتی ہے ۔خوش آئند بات یہ ہے کہ آج پاکستان میں یہ احساسِ افتخار دوبارہ زندہ ہو رہا ہے۔
اس کامیابی میں شہباز شریف ، اسحاق ڈار اور جنرل عاصم منیر کی سفارتی بصیرت، سنجیدگی اور مخلصانہ کوششوں کا کردار نمایاں ہے۔ ان تینوں کی شخصیت میںنیک نیتی ، خلوص اور لگن و کمٹمنٹ کا جو امتزاج پایا جاتا ہے وہ نہ صرف اعتماد پیدا کرتا ہے بلکہ ایک مثبت اور پُرامن مستقبل کی امید بھی دلاتا ہے۔ہر لمحہ دل سے یہ دعا نکلتی ہے کہ پاکستان اپنی ان سفارتی کاوشوں میں کامیاب ہو کر خیر کی علمبرداری میں قائدانہ کردار ادا کرے اور خطے کے عوام امن، خوشحالی اور استحکام کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔خدا کا لا کھ شکرہے کہ ہمیں دوبارہ اپنے ملک اور اپنے لوگوں پر فخر کرنے کا احساس عطا ہوا ۔ پاکستان زندہ باد