• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایرانی جامعات پر حملہ کی مذمت نہ کی گئی تو مشرق وسطیٰ میں امریکی یونیورسٹیز ممکنہ ہدف، ایران کا انتباہ

کراچی (نیوز ڈیسک)ایرانی جامعات پر حملہ کی مذمت نہ کی گئی تومشرقِ وسطیٰ میں امریکی یونیورسٹیز ہمارا ممکنہ ہدف ہونگیں، ایران نے انتباہ جاری کر دیا۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں امریکی جامعات کے طلبہ، اساتذہ اور مقامی باشندے یونیورسٹیز سے 1کلومیٹر دور رہیں ،ایرانی دھمکی کے بعد بیروت کی امریکن یونیورسٹی نے احتیاطی اقدام کے طور پر کلاسز اور امتحانات آن لائن کر دیے، طلبہ و عملے کے لیے حفاظتی ہدایات بھی جاری کردیں۔ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے آج(پیر)کی دوپہر تک ایرانی جامعات پر بمباری کی باضابطہ مذمت نہ کی تو مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی جامعات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے خطے میں امریکی جامعات کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد، ʼامریکن یونیورسٹی آف بیروت(AUB) نے احتیاطی طور پر آج اور کل (پیر اور منگل) کے لیے تمام کلاسز اور امتحانات آن لائن منتقل کر دیے ہیں۔ یونیورسٹی صدر کے مطابق، کیمپس کو کوئی براہِ راست خطرہ نہیں، لیکن تعلیمی سرگرمیاں دو روز آن لائن ہوں گی۔ پاسداران کی طرف سے یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے نتیجے ایران کے دو بڑے تعلیمی ادارے تباہ ہوئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن کو پیر، 30مارچ، دوپہر 12بجے تک مذمتی بیان جاری کرنا ہوگا، بصورتِ دیگر علاقائی امریکی تعلیمی انفراسٹرکچر کو خطرات لاحق ہوں گے۔پاسدارانِ انقلاب نے اس دوران مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی جامعات کے اساتذہ، ملازمین، طلبہ اور آس پاس کے رہائشیوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ کم از کم ایک کلومیٹر کے دائرے سے باہر رہیں تاکہ ممکنہ کارروائی کی صورت میں جانی نقصان کم سے کم ہو۔خلیجی ممالک میں متعدد معروف امریکی جامعات کی شاخیں موجود ہیں ، جن میں ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی (قطر) اور نیویارک یونیورسٹی ابوظہبی (امارات) شامل ہیں۔28فروری سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ایران کی عسکری صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے، تاہم ایران اب بھی اسرائیل اور خلیجی اتحادیوں پر جوابی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

دنیا بھر سے سے مزید