مقبوضہ بیت المقدس (اے ایف پی) اسرائیل کی پارلیمنٹ رات گئے 2026 کے بجٹ پر ووٹنگ کرے گی، جس میں فوجی اخراجات میں بڑے پیمانے پر اضافے کی گنجائش رکھی گئی ہے، کیونکہ اس وقت اسرائیل ایک سے زائد ممالک کیخلاف جنگ میں مصروف ہے۔ جنگی بجٹ 10 ارب ڈالر سے زائد کے اضافے کے ساتھ 45 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا—جو کہ 2023 میں حماس کے حملے کے بعد غزہ جنگ شروع ہونے سے پہلے مختص کی گئی رقم سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ اس وقت سے جنگی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔28فروری سے اپنے امریکی اتحادی کے ساتھ ایران کے خلاف نئی جنگ لڑنے کے علاوہ، اسرائیل جنوبی لبنان میں ایران نواز اسلام پسند تحریک حزب اللہ کے خلاف بھی نبرد آزما ہے۔اسرائیلی پریس نے 15مارچ کو رپورٹ کیا تھا کہ حکومت نے جاری جنگ سے متعلق ہنگامی فوجی خریداریوں کے لیے 82کروڑ 70لاکھ ڈالر کے ایڈوانس (پیشگی رقم) کی منظوری دی تھی۔جنگی اخراجات میں اس اضافے کے نتیجے میں دیگر تمام وزارتوں کے بجٹ میں تین فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت، جو اپنی بقا کے لئے اپنے کٹر قدامت پسند (انتہا پسند فرقہ پرست) اور آباد کار اتحادیوں کی حمایت پر انحصار کرتی ہے، نے خصوصی طور پر ان کے لئے مختص فنڈز میں نمایاں اضافے کی منظوری دی ہے۔