کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) صوبائی سیکرٹری وومن ڈویلپمنٹ سائر ہ عطاءنے کہاہے کہ خواتین کودر پیش صنفی امتیاز کے خاتمے کیلیے اقدامات کیے جارہے ہیں خواتین کو کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کے خلاف قانون 2016 اس خیال کے ساتھ متعارف کیا گیا کہ اداروں کے اندر ایسا محفوظ ماحول قائم کیا جائے جہاں خواتین اور مرد بلا خوف و خطر کام کر سکیں ان خیالات کا اظہارانہوں نے محکمہ پولیس کے تحت خواتین ،بچوں اور نابالغوں کے تحفظ اور صنفی امتیاز کے خلاف قائم سینٹر اور مختلف سرکاری اور غیرسرکاری اداروں کی جانب سے عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکیا اس موقع پرصوبائی خاتون محتسب برائے ہراسگی محترمہ طاہر ہ بلوچ ، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر بلوچستان پولیس حسن اسد علوی ، اے آئی جی جینڈر اسرار احمد عمرانی ،ریذیڈینٹ ڈائریکٹر عورت فاؤنڈیشن علاؤالدین خلجی ، کوآرڈینیٹر عورت فاؤنڈیشن یاسمین مغل، عائشہ ودود، شمائلہ، روبینہ زہری، محمد علی، سائمہ جاوید، عمہ عطاء ، شازیہ عمران، روبینہ کوثر رابعہ ذاکراوردیگر نمائندے موجود تھے سائرہ عطاءنے کہا کہ خواتین کے حقوق کو تقریروں سے آگے بڑھ کر عملی تحفظ دیناچاہیئے انہوں نے کہاکہ قانون اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کام کی جگہ پر پیش آنے والے واقعات کی بروقت اور شفاف تحقیقات ہوں اور متاثرہ افراد کو انصاف فراہم کیا جائےاس کے علاوہ اداروں پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو اس حوالے سے آگاہی فراہم کریں اور ایک باوقار، محفوظ اور پیشہ ورانہ ماحول کو فروغ دیںبلوچستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں مسائل کے حل کے لیے نہ صرف قانون سازی بلکہ اس پر مؤثر عملدرآمد بھی ضروری ہےحسن اسد علوی نے کہا کہ صوبے میں خواتین کو بااختیار اور پولیس نظام کو عوام دوست بنارہے ہیں خواتین پولیس اہلکار اب مختلف تھانوں میں کمپلینٹ آفیسر، نائب محرر، کمپیوٹر آپریٹر سمیت دیگر انتظامی و فیصلہ ساز ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں طاہر ہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد اب بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہےخصوصاً دیہی علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولیات کا فقدان ہےاگر خواتین کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ معاشرے کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکتی ہیں۔