• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کے قتل کا کیس، تمام ملزمان بری

—فائل فوٹوز
—فائل فوٹوز

میہڑ کی امِ رباب چانڈیو کے والد تمندار مختار علی چانڈیو، دادا رئیس کرم اللّٰہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کے تہرے قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔

دادو کی ماڈل کرمنل کورٹ نے تمام ملزمان کو بری کر دیا۔

دادو کی ماڈل کورٹ نے گزشتہ سماعت میں گواہان کے بیانات اور دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ جائیں گے: ام رباب چانڈیو

ام رباب چانڈیو نے تہرے قتل کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔

عدالت کے باہر گفتگو کرتے ہوئے ام رباب چانڈیو نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ریاست کی عدالت کی جانب سے آیا ہے، تاہم عوام حقیقت سے آگاہ ہو چکی ہے اور ہم عوام کی عدالت میں یہ کیس پہلے ہی جیت چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اس جدوجہد میں سرخرو ہو چکی ہوں اور انصاف کے حصول کے لیے میرا عزم برقرار ہے۔

ام رباب کا مزید کہنا ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، اس لیے میں اس فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کروں گی۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میرے حوصلے پہلے بھی بلند تھے اور آج بھی بلند ہیں۔

کیس میں 3 گواہ اور میڈیکل شواہد موجود تھے: وکیل

دوسری جانب تہرے قتل کیس کے وکیل صلاح الدین پنہور نے جیونیوز سے گفتگو میں کہا کہ سرداری نظام کے خلاف 3 لوگوں کا دن دہہاڑے قتل ہوا، کیس میں 3 گواہ اور میڈیکل شواہد موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ اتنے شواہد پر ہماری نظر میں سزا ہوسکتی تھی، کیس کے خلاف ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے۔

خیال رہے کہ 17 جنوری 2018ء کو امِ رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کو قتل کیا گیا تھا۔

مقدمہ تھانہ میہڑ میں رکنِ سندھ اسمبلی سردار چانڈیو اور برہان چانڈیو سمیت 7 ملزمان کے خلاف درج ہے۔

امِ رباب اس وقت شہہ سرخیوں میں آئیں جب وہ تہرے قتل کیس میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہ ہونے پر ننگے پاؤں دادو کی مقامی عدالت آئی تھیں۔

 واقعے پر اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کیس کو 3 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید