میہڑ (نا مہ نگار ام رباب چانڈیو کے 3اہل خانہ کے قتل کیس کی عدالت میں سماعت، گواھوں سے جرح، 30اگست تک ملتوی۔ ام رباب چانڈیو کے والد تمندار مختیار علی چانڈیو چچا ضلعی کونسلر قابل چانڈیو اور دادا یوسی چیئر مین کرم اللہ چانڈیو کے 6برس قبل قتل کیے جانے کے واقعے کے کیس کی گذشتہ روز دادو کی عدالت ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ کے جج حسن علی کلوڑ کی عدالت میں سماعت ہوئی۔ جس میں امہ رباب چانڈیو کیس کا مدعی پرویز چانڈیو اپنے وکیل ایڈووکیٹ صلاح الدین پھنور کے ساتھہ پیش ہوئے ۔ جبکہ کیس میں نامزد پی پی ایم پی اے سردار خان چانڈیو ،ایم پی اے نواب برہان خان چانڈیو اس کے علاوہ سابقہ ایس ایچ او فرید آباد کریم بخش چانڈیو سمیت دیگر جیل میں قید ملزمان مرتضی چانڈیو رئیس علی گوہر چانڈیو، سکندر چانڈیو اور ذوالفقار چانڈیو بھی پیش ہوئے۔ جبکہ عدالت میں ملزم سابقہ ایس ایچ او کریم بخش چانڈیو کے سرکاری مشیروں تفتیشی آفیسر مشتاق عالمانی سے مخالف وکلاء نے جرح مکمل کی۔ جس کے بعد عدالت نے 30 آگست تک شنوائی ملتوی کردی ۔ عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے امہ رباب چانڈیو نے کھا کہ میری جدوجھد کے بعد سندھ میں عوام وڈیروں اور سرداروں کے ظلم کیخلاف آواز اٹھا رھے ہیں۔ میری ماں بیمار ہے جس کا علاج باھر ملک سے ہورھا ہے۔ دوسری جانب پی پی ایم پی اے سردارخان چانڈیو نے کھا کہ مقدمہ جھوٹا ہے۔ ہمارے خلاف پروپیگنڈا کی جا رہی ہے۔ ہمارا عدالتوں پر یقین ہے ھمیں انصاف ملے گا۔