یورپ کے 4 بڑے ممالک فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ نے اسرائیل کی جانب سے سزائے موت کے دائرہ کار کو بڑھانے کے مجوزہ قانون پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیل کے اس نئے قانون کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ قانون فلسطینیوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
جرمن وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بل کی ’عملاً امتیازی نوعیت‘ تشویش ناک ہے اور اس کی منظوری اسرائیل کے جمہوری اصولوں سے متعلق وعدوں کو کمزور کر سکتی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ میں اس بل پر آج دوسری اور تیسری ریڈنگ متوقع ہے، قانون منظور ہونے کی صورت میں اس کے خلاف فوری قانونی چیلنج سامنے آنے اور معاملہ سپریم کورٹ جانے کا امکان ہے۔
یہ قانون ایسے وقت میں زیرِ غور آیا ہے جب غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف فوجیوں اور آبادکاروں کے تشدد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ یہ قانون اسرائیل کے نظام میں سزائے موت کو ایک ’امتیازی ہتھیار‘ بنا سکتا ہے۔
تنظیم کے مطابق مجوزہ ترامیم کے تحت انتہائی سزا کو خاص طور پر فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیے جانے کا خطرہ ہے۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی کہا ہے کہ قانون منظور ہونے کی صورت میں عدالتوں سے صوابدیدی اختیارات ختم ہو سکتے ہیں اور جج ملزمان کے انفرادی حالات یا رعایتی عوامل کو مدِنظر نہیں رکھ سکیں گے۔
دوسری جانب کونسل آف یورپ کے سربراہ ایلین بیرسے نے اسرائیل سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قانون کو ترک کرے۔
ان کا کہنا ہے کہ کونسل آف یورپ ہر جگہ اور ہر حالت میں سزائے موت کی مخالفت کرتی ہے۔