• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کی امریکا کیساتھ براہِ راست مذاکرات کی تردید

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

ایران نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تردید کر دی۔

اس حوالے سے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہوئی، پیغامات ثالثوں کے ذریعے پہنچائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو بھیجی گئی تجاویز زیادہ تر غیر حقیقت پسندانہ، غیر معقول اور حد سے زیادہ تھیں، خوش آئند ہے کہ علاقائی ممالک امن کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ صورتِ حال کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنا ضروری ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ یوکرین تنازع کو امریکا اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے جوڑنا تباہ کن غلط فہمی ہے، لبنان میں ایرانی سفیر بیروت میں اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ اب بھی فعال ہے، بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب امریکا و اسرائیل انتہائی کے خطرناک حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔

اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ جب تک جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے رکن ہیں معاہدے کا احترام کرتے ہیں، ایران پر حملے کیے جارہے ہیں، ایران کے حقوق کا احترام نہیں کیا جارہا، ایسی صورتِ حال میں جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کی افادیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اپنے جوہری عزائم ترک نہ کیے تو اسے مستقبل میں اپنے ملک سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ایران بالآخر اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہو جائے گا اور افزودہ مواد امریکا کے حوالے کرے گا۔

صدر ٹرمپ کے مطابق ایران اس وقت بری طرح کمزور ہو چکا ہے اور جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے گا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید