معروف امریکی ماہرِ معاشیات جیفری سیچس نے متحدہ عرب امارات کو جاری علاقائی کشیدگی میں جنگی اتحاد کا حصہ بننے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی صورت میں دبئی اور ابوظبی براہِ راست خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔
بھارتی میڈیا ’اے این آئی‘ سے گفتگو میں جیفری سیچس نے کہا کہ دبئی اور ابوظبی بنیادی طور پر سیاحتی اور تجارتی مراکز ہیں نہ کہ مضبوط دفاعی یا میزائلز سے محفوظ فوجی شہر۔
ان کا کہنا ہے کہ جنگ میں شمولیت ان شہروں کے معاشی ماڈل اور عالمی سرمایہ کاری کے تصور کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
امریکی ماہرِ معاشیات نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ قریبی اتحاد اختیار کر کے خود کو ایک مشکل صورتِ حال میں ڈال لیا ہے اور اب بھی اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کے بجائے مزید آگے بڑھ رہا ہے۔
جیفری سیچس نے ابراہام معاہدوں کو خطے کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک نے اپنی سلامتی مکمل طور پر امریکی تحفظ پر منحصر کر دی ہے جو ایک بڑی غلط حکمتِ عملی ثابت ہو سکتی ہے۔
اُنہوں نے سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہنری کسنجر کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی دشمنی خطرناک ہوتی ہے لیکن اس کی دوستی بعض اوقات مہلک ثابت ہوتی ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی خطے کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سر زمین امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اگر کسی ملک کی فوجی تنصیبات ایران کے خلاف استعمال ہوئیں تو اسے جارحیت میں شمولیت سمجھا جائے گا۔
ادھر خلیجی ممالک نے توانائی تنصیبات پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے امریکا کی حمایت کا اشارہ دیا ہے جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔