ایران نے ترکیہ پر میزائل داغنے کی تردید کرتے ہوئے انقرہ کو معاملے کی مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کردی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترک ہم منصب حکان فیدان کو فون کرکے دشمن کے فالس فلیگ آپریشنز سے خبردار بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ پر میزائل حملے کی جانچ پڑتال کے لیے مکمل تکنیکی تعاون کرنے پر تیار ہیں۔
ایک اور بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی کارروائیاں دشمن جارح قوتوں کے خلاف ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی فورسز کے خطے سے نکلنے کا وقت آ چکا ہے، جارح دشمن نہ عربوں کا احترام کرتے ہیں، نہ ایرانیوں کا، نہ وہ کسی کو سیکیورٹی دے سکتے ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران سعودی عرب کا احترام کرتا ہے اور اسے برادر ملک سمجھتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگی مجرموں کے ارادے واضح ہیں، وہ دھڑلے اور بے شرمی سے دوا ساز کمپنیوں پر حملے کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان قوتوں نے ایران کو دفاعی صلاحیتوں سے محروم فلسطین سمجھنے کی غلطی کی، اب ایران کی طاقتور مسلح افواج جارحیت کرنے والوں کو سزا دے رہی ہے۔