ایران اور اسرائیل و امریکا کے درمیان جاری جنگ کے اثرات جہاں مشرق وسطیٰ پر پڑے ہیں وہیں برطانیہ میں بھی حالات خراب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
سپر مارکیٹوں کی طرف سے تیل کی سپلائی معطل ہونے کے بعد حالات کی سنگینی کا اشارہ دیدیا ہے، پیٹرول اسٹیشنوں پر دو پاؤنڈ فی لیٹر چارج کرنے کی بجائے پمپ بند ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ سپر مارکیٹوں کی طرف سے سپلائی کی وارننگ کے بعد عوام میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی دوسرے مہینے میں داخل ہوچکی ہے، ایندھن کی روز بروز بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے جہاں لوگ سخت پریشان تھے اب تیل کی سپلائی بند ہونے سے برطانیہ کے مختلف علاقوں میں پیٹرول اسٹیشنوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔
آبنائے ہرمز بند ہونے سے پوری دنیا میں تیل کی سپلائی سخت متاثر ہے‘ اس تنازع کے خاتمے کے لیے جہاں آثار دکھائی نہیں دیتے، وہیں یمن میں حوثی باغیوں نے بھی اسرائیل کے ساتھ جنگ چھیڑ لی ہے۔
ممکنہ طور پر اگر حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں جہاز وں پر حملے شروع کیے تو بحران سے نمٹنا ناممکن ہوجائے گا۔
برطانیہ میں پیٹرول کی اوسط قیمت 150.11p فی لیٹر ،ڈیزل دوبارہ بڑھ کر 177.68p تک پہنچ چکا ہے، لوگ 200 پینی فی لیٹر تک دینے کو تیار ہیں مگر پیٹرول کا بحران سرچڑھ کر بول رہا ہے۔