یورپی یونین نے ایران امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث جہازوں کے ایندھن کی ممکنہ قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متبادل ذرائع اور ہنگامی ذخائر بڑھانے کے اقدامات پر غور شروع کر دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل اور گیس کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی ہے جس سے یورپ میں ایندھن کی فراہمی دباؤ کا شکار ہے۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت حقیقی قلت نہیں ہے، ہنگامی ذخائر موجود ہیں جو ضرورت پڑنے پر استعمال کیے جا سکتے ہیں مگر گرمیوں میں پروازوں کی بڑے پیمانے پر منسوخی کا امکان کم ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی توانائی کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کے پاس تقریباً 6 ہفتوں کا جہازوں کا ایندھن باقی رہ گیا ہے جبکہ صورتِ حال برقرار رہنے پر جلد پروازیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ یورپ اپنی 30 سے 40 فیصد ضرورتیں درآمد کرتا ہے جن میں تقریباً نصف مشرقِ وسطیٰ سے پوری کی جاتی ہیں۔
یورپی یونین امریکا سے ایندھن کی درآمد اور کم از کم ذخائر کی نئی پابندیوں پر بھی غور کر رہی ہے جبکہ ایک نیا نگرانی نظام قائم کیا جا رہا ہے تاکہ فراہمی کی صورتِ حال پر نظر رکھی جا سکے۔
عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ فضائی کمپنیوں نے پروازیں منسوخ یا کرایوں میں اضافہ کیا ہے تاہم حکام کے مطابق یہ قلت کے بجائے بڑھتی قیمتوں کا نتیجہ ہے۔