یورپی یونین میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں آئرلینڈ، اسپین اور سلووینیا نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم جرمنی اور اٹلی نے اس اقدام کو روک دیا۔
یہ معاملہ یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے ایسوسی ایشن معاہدے سے متعلق ہے، جو 2000ء میں نافذ ہوا تھا اور جس کے تحت اسرائیل کو یورپی منڈیوں تک خصوصی رسائی اور تجارت، تحقیق اور سفارت کاری میں تعاون حاصل ہے۔
حالیہ دباؤ کی بڑی وجہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے اقدامات ہیں، جن پر متعدد انسانی حقوق کی تنظیمیں شدید تنقید کر رہی ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت 60 سے زائد تنظیموں نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاہدے کو معطل کرے اور اسرائیل کے ساتھ اسلحہ اور غیر قانونی بستیوں سے متعلق تجارت پر پابندیاں عائد کرے۔
یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اسپین کے وزیرِ خارجہ جوس مینیول نے کہا ہے کہ تمام ممالک کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق مؤقف کا احترام کرنا چاہیے، بصورتِ دیگر یہ یورپی یونین کی ناکامی ہو گی۔
دوسری جانب جرمنی کے وزیرِ خارجہ نے اس مطالبے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل کا حل اسرائیل کے ساتھ تعمیری مذاکرات میں ہے۔
عوامی دباؤ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں فلسطین کے لیے انصاف مہم کے تحت 1 ملین سے زائد دستخط جمع کیے گئے ہیں، جس کے بعد یورپی کمیشن قانونی طور پر اس معاملے پر ردِعمل دینے کا پابند ہو گیا ہے۔
غزہ جنگ اس بحث کا مرکزی سبب بنی ہوئی ہے، جہاں ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے تشدد پر بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یورپی یونین اس معاملے پر واضح طور پر تقسیم کا شکار ہے اور جرمنی، ہنگری اور جمہوریہ چیک جیسے ممالک کی مخالفت کے باعث فوری طور پر معاہدے کی مکمل معطلی کا امکان کم نظر آتا ہے، تاہم انسانی حقوق کی بنیاد پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔