ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران ایسے مذاکرات مسترد کرتا ہے جن کا ہدف ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے دباؤ اور دھمکیوں کی پالیسی بدلی تب ہی مذاکراتی عمل بحال کیا جا سکتا ہے، بطور ثالث پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر دے۔
ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ بطور ثالث پاکستان کی کوشش ہے کہ امریکا قبضے میں لیے گئے ایرانی پرچم بردار جہاز کو چھوڑ دے، امریکا جنگ ختم کرنے کے لیے اختلافات ختم کرنے کے بجائے ہر روز نئی رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔
ادھر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تجارتی جہاز پر حملہ اور عملے کو یرغمال بنانا سیز فائر کی بڑی خلاف ورزی ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جنگی عمل اور سیز فائر کی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے گی۔