• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا ایران پرانا جوہری معاہدہ کیا تھا؟ ٹرمپ کی نئی شرائط کیا ہیں؟

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

2015ء میں ایران اور 6 عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایران نے یورینیئم افزودگی محدود کرنے، ذخیرہ کم کرنے اور عالمی نگرانی قبول کرنے پر اتفاق کیا تھا، بدلے میں ایران پر عائد معاشی پابندیاں نرم کی گئیں اور اسے عالمی معیشت تک رسائی ملی۔

’الجزیرہ‘ کی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2015ء کے معاہدے کے مطابق ایران نے افزودہ یورینیئم کو تقریباً 98 فیصد کم کر کے 300 کلو گرام تک محدود کیا اور افزودگی کی سطح 3.67 فیصد رکھی جبکہ سینٹری فیوجز کی تعداد بھی کم کی گئی۔

اس کے علاوہ ایران کی جوہری تنصیبات پر سخت نگرانی کا نظام بھی نافذ کیا گیا۔

2018ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو ’بدترین‘ قرار دے کر امریکا کو اس سے الگ کر لیا اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں تاکہ نیا معاہدہ کیا جا سکے۔

الجزیرہ کا کہنا ہے کہ 2028ء کے بعد سے صدر ٹرمپ کی نئی شرائط میں ایران سے مکمل طور پر یورینیئم افزودگی ختم کرنے، بیلسٹک میزائل پروگرام محدود کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلح گروہوں کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ شامل ہے جبکہ ایران ان مطالبات کو مسترد کرتا رہا ہے اور اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن قرار دیتا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انخلاء کے بعد ایران نے 2019ء سے معاہدے کی خلاف ورزیاں شروع کیں اور افزودگی کی سطح بڑھا کر 60 فیصد تک لے گیا، 2025ء تک ایران کے پاس تقریباً 440 کلو گرام افزودہ یورینیئم موجود تھا۔

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان نیا معاہدہ مکمل طور پر مختلف ہونے کے بجائے پرانے معاہدے جیسا ہی ہو سکتا ہے تاہم موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی اور سخت مؤقف بڑی رکاوٹ ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید