• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایرانی حکام کو اسلامی جمہوریہ کے قیام کی سالگرہ کے موقع پر جنگ کی ’فتح‘ کا انتظار

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے باعث ملک میں جنگی صورتِ حال کے باوجود اسلامی جمہوریہ کے قیام کی سالگرہ کے موقع پر حکومت کے حامی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں ہونے والی ریلیوں میں شرکت کی۔

یہ تقریبات 1979ء کے اس ریفرنڈم کی یاد میں منعقد کی گئیں جس میں سرکاری اعلان کے مطابق 98.2 فیصد ووٹوں سے اسلامی جمہوریہ نظام کی منظوری دی گئی تھی۔

تقریبات کے چند گھنٹوں بعد امریکا نے تہران میں سابق امریکی سفارت خانے کے مقام پر فضائی حملہ کیا جسے اسلامی جمہوریہ ڈے کی علامتی اہمیت سے جوڑا جا رہا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے علاقے میں تباہی اور دھوئیں کی تصاویر نشر کیں، اس مقام کی حفاظت ایرانی پاسداران انقلاب کر رہے تھے۔

بدھ کے روز حکام نے دارالحکومت میں 150 میٹر بلند اور 300 کلو گرام وزنی قومی پرچم بھی نصب کیا جبکہ مختلف شہروں میں اجتماعات ہوئے۔

ایرانی حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر موجود رہ کر ملکی سلامتی کو یقینی بنائیں۔

انقلابِ ایران کے بانی روح اللّٰہ خمینی کے پوتے حسن خمینی نے اس موقع ہر کہا ہے کہ جنگ ختم ہونے تک عوام کا سڑکوں پر موجود رہنا مذہبی ذمے داری ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مظاہرین نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے اور مذہبی ترانے پیش کیے۔

پاسدارانِ انقلاب کی بسیج فورس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے بھی تہران میں گشت بڑھا دیا اور مختلف مقامات پر چیک پوسٹس قائم کیں۔ 

ایرانی میڈیا کے مطابق عراق سے وابستہ رضاکار گروہوں کے افراد بھی تہران میں امدادی کیمپ قائم کرتے دیکھے گئے۔

ادھر ایرانی فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا زمینی کارروائی کرتا ہے تو اسے بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑے گا، حکام کا کہنا ہے کہ فوج 2001ء سے ممکنہ امریکی حملے کے حوالے سے مشقیں کر رہی ہے۔

امریکا اور اسرائیل نے حالیہ حملوں میں ایران کی بڑی اسٹیل صنعتوں، جوہری تنصیبات، ایک یونیورسٹی اور فوجی مراکز کو بھی نشانہ بنایا جس سے معیشت اور شہری زندگی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

دوسری جانب ملک میں تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش کو 1 ماہ سے زائد ہو چکا ہے جس کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں، کئی افراد نے مہنگے وی پی این خریدنے اور آن لائن دھوکا دہی کا شکار ہونے کی شکایات کی ہیں۔

ایرانی حکام نے غیر قانونی سیٹلائٹ انٹرنیٹ استعمال کرنے اور حملوں کی ویڈیوز بنانے والوں کے خلاف قومی سلامتی کے مقدمات چلانے کا اعلان کیا ہے جن میں سخت سزائیں شامل ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق شہری اب ایک دوسرے کو فون اور پیغامات کے ذریعے فضائی حملوں کی پیشگی اطلاع دے کر خود ساختہ وارننگ نظام بنا چکے ہیں تاکہ بروقت پناہ لی جا سکے۔

جنگی دباؤ، اطلاعاتی پابندیوں اور معاشی مشکلات کے باوجود ایرانی حکومت ’فتح‘ کے دعوے اور عوامی حمایت کے مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید