بھارت میں تقریباً 5 سال کی تاخیر کے بعد دنیا کی سب سے بڑی مردم شماری کا آغاز ہو گیا جس میں پہلی بار تقریباً 1 صدی بعد ذات پات کی مکمل گنتی بھی شامل کی جا رہی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ عمل صرف آبادی کی گنتی نہیں بلکہ ایک اہم سیاسی اور سماجی مرحلہ بھی ثابت ہو سکتا ہے، یہ مردم شماری تقریباً 1.24 ارب ڈالرز کی لاگت سے کی جا رہی ہے جس میں 3 ملین سے زائد سرکاری اہلکار ملک بھر میں تقریباً 1.4 ارب افراد کا ڈیٹا جمع کریں گے۔
واضح رہے کہ بھارت میں آخری مردم شماری 2011ء میں ہوئی تھی جبکہ اس کے بعد مردم شماری 2021ء میں ہونا تھی مگر کورونا کی وباء کے باعث مؤخر ہو گئی تھی۔
بھارتی حکام کے مطابق مردم شماری ملک کی 28 ریاستوں اور 8 مراکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں کی جائے گی جس میں 7000 سے زائد شہر اور تقریباً 640000 دیہات شامل ہیں۔
یہ بھارت کی پہلی مکمل ڈیجیٹل مردم شماری ہو گی، اہلکار موبائل ایپس کے ذریعے 33 سوالات پر مشتمل معلومات جمع کریں گے جبکہ شہری آن لائن خود بھی اپنی معلومات درج کر سکیں گے۔
پہلا مرحلہ: گھروں اور بنیادی سہولتوں کی معلومات، جیسے رہائش، پانی، بجلی اور انٹرنیٹ تک رسائی۔
دوسرا مرحلہ: تعلیم، روزگار، ہجرت، شرحِ پیدائش اور ذات پات سے متعلق تفصیلات۔
یہ مردم شماری 31 مارچ کو اگلے سال مکمل ہونے کی توقع ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ مردم شماری حکومت کو آبادی کے رجحانات، شہری و دیہی تقسیم، روزگار اور سماجی حالات سمجھنے میں مدد دیتی ہے، اسی ڈیٹا کی بنیاد پر فلاحی منصوبے، وسائل کی تقسیم اور ترقیاتی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔
یہ مردم شماری اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس کے بعد انتخابی حلقہ بندیوں کی نئی حد بندی متوقع ہے۔
جنوبی بھارت کی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ آبادی کی بنیاد پر نئی تقسیم سے شمالی علاقوں کی سیاسی طاقت مزید بڑھ سکتی ہے۔
اس کے علاوہ خواتین کے لیے پارلیمان میں ایک تہائی نشستوں کے ریزرویشن کا قانون بھی نئی مردم شماری اور حلقہ بندی سے مشروط ہے۔
بھارت میں آخری بار مکمل ذات پات کی مردم شماری 1931ء میں ہوئی تھی۔
آزادی کے بعد 1951ء میں حکومت نے سماجی تقسیم سے بچنے کے لیے اسے بند کر دیا تھا، صرف نچلی ذاتوں اور قبائلی گروہوں کا محدود ڈیٹا لیا جاتا رہا۔
بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت پہلے ذات پات کی گنتی کی مخالف رہی ہے تاہم سیاسی دباؤ کے بعد اسے مردم شماری میں شامل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
حامیوں کا مؤقف ہے کہ درست سماجی انصاف اور ریزرویشن پالیسی بنانے کے لیے تفصیلی ذات پات کا ڈیٹا ضروری ہے جبکہ مخالفین کہتے ہیں کہ اس سے معاشرے میں تقسیم مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔