امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا صدارتی حکم نامہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر دوا ساز کمپنیوں نے حکومت کے ساتھ قیمتوں سے متعلق معاہدے نہ کیے تو درآمد شدہ پیٹنٹ ادویات پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے حکم نامے کے مطابق وہ کمپنیاں جو ’موسٹ فیورڈ نیشن‘ قیمتوں کے معاہدے پر دستخط کریں گی اور امریکا میں پیداواری پلانٹس قائم کریں گی، اِن پر صفر فیصد ٹیرف لاگو ہو گا جبکہ جو کمپنیاں امریکا میں فیکٹریاں تو بنائیں گی مگر قیمتوں کا معاہدہ نہیں کریں گی ان پر ابتدائی طور پر 20 فیصد ٹیرف لگے گا جو آئندہ 4 سال کے دوران بڑھ کر 100 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق بڑی کمپنیوں کو مذاکرات کے لیے 120 دن جبکہ دیگر کمپنیوں کو 180 دن کا وقت دیا گیا ہے۔
امریکی حکام نے ان کمپنیوں یا ادویات کے نام ظاہر نہیں کیے جو ممکنہ طور پر نئے ٹیرف سے متاثر ہو سکتی ہیں تاہم بتایا گیا ہے کہ 17 دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ قیمتوں کے معاہدے طے پا چکے ہیں جن میں سے 13 نے دستخط بھی کر دیے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے حکم نامے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کیونکہ امریکا ادویات اور اِن کے اجزاء کی درآمد پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔
یہ اعلان ٹرمپ کی نام نہاد ’لبریشن ڈے‘ پالیسی کی پہلی سالگرہ پر سامنے آیا جب اُنہوں نے دنیا بھر کی درآمدات پر وسیع ٹیرف عائد کیے تھے جنہیں بعد میں امریکی سپریم کورٹ نے فروری میں کالعدم قرار دے دیا تھا۔