• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز کھلوانے کی کوششیں: کیا برطانوی وزیرِ اعظم کا 40 ممالک کا اتحاد کامیاب ہو سکے گا؟

برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر—فائل فوٹو
برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر—فائل فوٹو 

برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور ایران کی جانب سے بحری گزرگاہ کی عملی بندش کے بعد تقریباً 40 ممالک کے ساتھ ہنگامی سفارتی رابطے شروع کر دیے ہیں تاکہ عالمی تیل اور گیس کی ترسیل بحال کی جا سکے۔

عرب میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز سے عام حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی سپلائی گزرتی ہے جسے ایران نے اس وقت محدود کر دیا جب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے تہران پر حملوں کے بعد جنگ شروع ہوئی۔

تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

آبنائے مرمز بند ہونے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ ہے۔

کئی ایشیائی ممالک نے ایندھن بچانے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں جبکہ ملائیشیا نے سرکاری ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

اجلاس میں کون شریک ہوا؟

برطانیہ کی وزیرِ خارجہ یوویٹ کوپر کی زیرِ صدارت ویڈیو کانفرنس میں یورپی اور اتحادی ممالک شریک ہوئے جن میں فرانس، نیدرلینڈز، جرمنی، اٹلی، کینیڈا، آسٹریلیا اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

امریکا اس اتحاد میں شامل نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلوانا امریکا کی ذمے داری نہیں اور یورپی ممالک کو خود اقدامات کرنے ہوں گے۔

اجلاس کا ایجنڈا کیا ہے؟

برطانوی حکومت کے مطابق مذاکرات میں 3 اہم نکات زیرِ غور ہیں جن میں سفارتی اور سیاسی ذرائع سے بحری آمد و رفت کی بحالی، پھنسے ہوئے جہازوں اور ان میں موجود اسٹاف کی حفاظت، جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے صاف کرنا اور ٹینکروں کو سیکیورٹی فراہم کرنا شامل ہے۔

کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ راستہ کھلوانا ’آسان نہیں ہو گا‘ اور اس کے لیے طویل سفارتی کوششیں درکار ہوں گی۔

ایران کا مؤقف

ایران نے جنگ بندی کے لیے امریکا سے اپنی شرائط میں آبنائے ہرمز پر اپنے اختیار کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

عرب میڈیا کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب جہازوں سے گزرنے کے لیے فیس وصول کرنے کا نظام بھی متعارف کروا کر چکے ہیں جبکہ صرف چند ’دوست ممالک‘ کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی معاہدے کے بغیر آبنائے پرمز کو طاقت کے ذریعے کھلوالنا مشکل ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ حقیقی کامیابی اسی صورت ممکن ہے کہ جب ایران کے ساتھ سفارتی سمجھوتہ ہو یا امریکا اور یورپی ممالک مشترکہ فوجی تعاون کریں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید