• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعلیم سب کاحق ہے لیکن جہاں دیگر حقوق غصب کیے جاتے ہیں، وہیں ہمیں مجروح نظام کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے کے حق سے بھی محروم کیا جارہا ہے۔ ماری حکومتوں کی پہلی ترجیح کبھی تعلیم رہی ہی نہیں۔ ہر دور میں تعلیم کو سب سے آخر میں رکھا گیا جبکہ وزارت تعلیم ہر دور میں بنائی گئی ،اب تواس کے ساتھ آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کوبھی جوڑ دیا گیا لیکن تعلیم کی اہمیت پھر بھی نہیں تسلیم کی گئی، جس کا اندازہ اس سے بہ خوبی ہو سکتا ہے کہ ہر دور میں تعلیم کے لیے سب سے کم بجٹ رکھا گیا۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی پہلی تعلیمی کانفرنس منعقدہ 27 نومبر 1947کو تعلیم کو قوم کے مستقبل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے قومی مزاج، تاریخ، اور ثقافت کے مطابق نظام تعلیم وضع کرنے پر زور دیا، ان کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف کتابی علم نہیں بلکہ کردار سازی،سائنسی اور تکنیکی مہارت سے نئی نسل کوآگاہ کرنا تھا۔ قائد اعظم کے تعلیمی ارشادات کے چنداہم نکات یہ تھے۔

’’ہمیں ترقی کے لئیے سنجیدگی کے ساتھ تعلیم کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔ تعلیم کا مقصد ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ طلبا کی کردار سازی اور ان کی صلاحیتوں کو آگے بڑھانا ہے۔ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق سائنسی اور تکنیکی تعلیم وتربیت کو فروغ دیناضروری ہے ‘‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے مستقبل کا انحصار بڑی حد تک اس نظام تعلیم اور بچوں کی تربیت پر ہوتا ہےجو ہم وضع کرتے ہیں۔ تعلیم کے معنی صرف درسی اور کتابی تعلیم نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے کردار کی تشکیل کرنا ہے. اس وقت ہمیں سائنسی، تکنیکی، پیشہ وارانہ تعلیم کی اشد ضرورت ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق اس وقت پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے ایسے ہیں جو تعلیم حاصل نہیں کر رہے، نا ہی والدین نے انھیں اسکول بھیجا۔ غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے ایسے خاندان اپنے بچوں کو کام پر لگا دیتے ہیں تاکہ گھر کے اخراجات پورے ہو سکیں۔ بچیاں گھروں میں کام کرتی ہیں، لڑکوں کو ورک شاپس، ہوٹلوں، پیٹرول پمپس پر ملازم لگا دیتے ہیں تاکہ آٹھ دس بچوں اور ماں باپ پیٹ بھر روٹی کھاسکے،جبکہ چائلڈ لیبر بھی ایک جرم ہے۔ 

آئین کے آرٹیکل پچیس اے میں درج ہے کہ سولہ سال سے کم عمر بچوں کی تعلیم لازمی اور مفت ہونی چاہیئے، پاکستان کی پارلیمنٹ اس سلسلے میں قانون سازی کرچکی ہے اس کے باوجود عمل درآمد نہیں ہورہا اور ایک بڑی تعداد میں بچے اسکولوں تک بھی نہیں پہنچ پارہے، یہ ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتوں دونوں کی ناکامی ہے۔

ہمارے نظام تعلیم کی کمزوری غلط ترجیحات کی وجہ سے ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں حکومت سب سے کم بجٹ مختص کرتی ہے اور جو رقم مختص کی جاتی ہے وہ پرائمری تعلیم پر خرچ کرنے کے بجائے اعلیٰ تعلیم پر خرچ کرکے داد وصول کی جاتی ہے۔ جب تعلیم کی بنیاد کمزور ہوگی تو عمارت کیسے کھڑی ہوگی. سب سے بڑی غلطی یہی ہے۔

جہاں جامعات کی تعداد بڑھ رہی ہے وہیں ان میں داخلوں کی شرح کمزور ہورہی ہے، ملک کی مشہور جامعات میں یہی صورتحال ہے۔ سرکاری کالجوں اور اسکولوں کی حالت تو اورابتر ہے، اکثریت نجی تعلیمی اداروں میں پڑھنے کو ترجیح دیتی ہے. ٹیوشن سینٹرز نے بھی ایک غلط ریت ڈال دی ہے، خود اسکول، کالج کے اساتذہ اپنے طالبعلموں کو ٹیوشن سینٹرز میں پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں، کیونکہ ان کا مفاد اس سے وابستہ ہے۔ انھیں لالچ دی جاتی ہے کہ وہ ٹیوشن سینٹر میں پڑھ کر پروفیشنل اداروں میں باآسانی داخلہ لے سکتے ہیں، داخلہ ٹیسٹ کے لیے الگ ٹیوشن دی جاتی ہے، یہ سب لوٹنے کے حربے ہیں ایسے میں تعلیمی نظام کیسے درست ہوسکتا ہے۔

اربابِ اختیارکی ترجیحات کچھ اور ہیں، یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہورہا ہے. انھیں نظر آرہا ہے کہ کتنی ہی درسی تعلیم حاصل کرلیں انھیں نوکری نہیں ملے گی، نا ہی معاشی طور پر مستحکم ہوسکیں گے، تب وہ ناجائز ذرائع سے ملک سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، کوئی زمین بیچتا ہے، کوئی ماں کا زیور۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ تعلیم کے ساتھ نوجوانوں کو کیسے ہنر مند بنایا جائے۔

تعلیم سے غفلت کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ ملک میں کسی بھی قسم کا بحران آئے، فوراً تعلیمی ادارے بند کردیے جاتے ہیں، چاہے وہ سیلاب ہو، بارشیں ہوں، دہشت گردوں سے نپٹنا ہو،جلسے جلوس ،دھرنے ہوں،بس تعلیمی ادارے بند کردو۔ اسی وجہ سے بنیادی تعلیم سب سے کمزور ہے جبکہ گلی گلی اسکول ہیں لیکن تعلیم کا معیار صفر بٹا صفر ہے۔

خراب حالات میں ایک اور چونچلا آن لائن پڑھائی ہے۔ اسٹینڈرڈ کے اسکولوں میں تو آن لائن کلاسز کا طریقہ کار کامیاب ہو جاتا ہے لیکن عام اسکول اس سسٹم کو اپنا ہی نہیں پاتے، جس کے نتیجے میں ان کا تعلیمی سیشن مکمل ہی نہیں ہو پاتا اور وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔

طبقاتی تفریق کی وجہ سے اسکولوں کی اقسام بھی ہیں کوئی انگلش میڈیم،کوئی اردو میڈیم۔ انگلش میڈیم میں بھی برٹش سسٹم،امریکن سسٹم کے ساتھ گرائمر اسکول، کونوینٹ اسکول۔ متوسط اور غریب بچے گورنمنٹ اسکول جاتے ہیں اور بوٹی سسٹم کو اپناتے ہیں یعنی نقل۔ اب بتائیں ان حالات میں کیسے تعلیم کو فروغ حاصل ہوگا۔

دردمند دل رکھنے والے تعلیم کا فروغ چاہتے ہیں۔ ان مشکلات کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ تعلیمی انقلاب لایا جاسکتا ہے، وہ ایسے کہ تعلیمی اصلاحات نافذ کی جائیں اور نئے دور کے حساب سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جائے۔ نئی تعلیمی پالیسی بنائی جائے اور ہر قسم کی تعلیم سب کی پہنچ میں ہو۔

یکساں تعلیمی نظام نافذ کیا جائے جو ہر ایک کے لیے قابلِ قبول ہو،ہماری ملکی ضروریات کےمطابق تعلیمی ترجیحات بنائی جائیں جو ہر بچے کی پہنچ میں ہوں۔ بنیادی تعلیم کو اہمیت دی جائے اور کوشش کی جائے کہ ملک کا ہر بچہ اسکول جائے، اس کے لیے میٹرک تک تعلیم مفت کردی جائے۔

سیکنڈری اسکول کی تعلیم کے ساتھ کوئی ہنر بھی سکھایا جائے، جو ان بچوں کے لیے آگے چل کر کام آسکے،تعلیم اور ہنر کو ساتھ منسلک کرکے نوجوانوں کو کارآمد شہری بنایا جاسکتا ہے۔ ملکی زراعتی اور صنعتی ضروریات میں ان نوجوانوں کو سیٹ کیا جاسکے۔

مختلف وجوہات کی وجہ سے آن لائن تعلیمی سلسلہ شروع کرنا پڑتا ہے تو حکومت کو اسے کامیاب بنانے کے لیے بجلی کی فراہمی، انٹر نیٹ کی سہولت اورنوجوانوں کو ڈیجیٹل تعلیم کی ٹریننگ دی جائے، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کم قیمت پر فراہم کیے جائیں۔

ملکی ضروریات کے مطابق، میڈیسن، زراعت، صنعت، میڈیاسائنس، انجینئرنگ، فنون ،آرٹس میں نوجوانوں کے رجحان کے مطابق تعلیم دی جائے تاکہ مستقبل میں وہ کامیاب زندگی گزارسکیں. بقول شاعر؎

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات

تعلیم سے مزید