• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں تعلیم کے شعبے سے متعلق سرکاری رپورٹوں کا اب ایک معمول کا پیرایہ بن چکا ہے۔ ان رپورٹوں میں حکومت کی اعلیٰ کارکردگی کا ذکر ہوتا ہے۔ گذشتہ حکومتوں کی ناکامیوں کی طرف اشارے کیے جاتے ہیں، یہ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے پچھلے برسوں یا مہینوں میں تعلیمی اداروں کی تعداد میں کتنا اضافہ کیا ہے۔ مختلف صوبوں کی صورت حال بھی بالعموم قابلِ ذکر بتائی جارہی ہوتی ہے۔ نئے پروگراموں کی تفصیل بتائی جاتی ہے۔

دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلیمی شعبے میں کس طرح کے روابط قائم ہورہے ہیں، ہماری جامعات نے باہر کے اداروں کے ساتھ کون کون سے میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پردستخط کیے ہیں، اور تعلیم کے شعبے میں کس قدر بدلاؤ آیا ہے۔رپورٹوں کا یہ حصہ بڑا حوصلہ افزامحسوس ہوتا ہے لیکن پھر بعض حقائق یا تو ان رپورٹوں میں جگہ ہی نہیں حاصل کرپاتے یا اگر ان کا ذکر آتا ہے تو بڑے دبے لفظوں میں اور بڑے مخفی انداز میں ،اور یہ ذکر بھی آئندہ کے لیے پُرعزم اعلانات کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

یہ بتایا جاتا ہے کہ ہم اب سے تین سال بعد یا پانچ سال بعد اس شعبے کی کمی کو ختم کردیں گے اورہماری ترقی کا اشاریہ ان شعبوں میں بھی بہت آگے بڑھ جائے گا۔یہ الگ بات ہے کہ عموماً جب یہ مدت پوری ہوتی ہے تو چند سال پہلے کیے گئے وعدے پورے نہ ہوپانے کے لیے کئی عذر تلاش کرلیتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم کے حوالے سے آئین نے ریاست کی جو ذمہ داریاں طے کی ہیں، وہ اسی قسم کے غلط بیانیوں اور نت نئے عذر تلاش کرلیے جانے کی بڑی اچھی مثال فراہم کرتی ہیں۔

آئین کے بنیادی حقوق کے باب میں آرٹیکل نمبر 25-Aیہ قرار دیتا ہے کہ، پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے بچوں کی مفت اور لازمی تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہوگی۔اس شق کی روشنی میں مرکزی حکومت نے پارلیمان سے اور صوبائی حکومتوں نے اپنی اپنی اسمبلیوں سے قوانین بھی پاس کروا رکھے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کی صورت حال انتہائی مایوس کن ہے۔

حال ہی میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ باوجود آئین کی اس پابندی کے، اس وقت ملک میں کوئی دو کروڑباسٹھ لاکھ بچے جو اسکول جانے کی عمر میں ہیں، عملاً اسکول میں نہیں ہیں۔

یہی نہیں بلکہ صرف اسلام آباد میں ، جو وفاقی دارالحکومت ہے ، اسکولوں میں جانے سے محروم بچوں کی تعدادنواسی ہزار (89000)ہے ۔بعض غیر سرکاری تخمینوں کے مطابق اصل تعداد سرکاری طور پر تسلیم کردہ تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت جب ان اعدادو شمار کو بیان کرتی ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اعدادو شمار خود اس کے لیے بھی انکشاف کی حیثیت رکھتے ہیں۔وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس انکشاف سے وہ خود بھی بہت پریشان ہے اور فوری طور پر اب اس صورت حال کو درست کرنے پر کمر بستہ ہوچکی ہے۔

مگر زرا پیچھے مڑ کر دیکھیں تو یہ نظر آتا ہے کہ اس طرح کا انکشاف دو ایک سال پہلے بھی ہوچکا تھا اور ایسے انکشافات برسہا برس سے ہوتے آرہے ہیں اور برسہا برس سے ہی حکومتوں کی پریشانیاں بھی اسی طرح قائم و دائم ہیں، نیزمسائل کو حل کرنے کا عزم بھی ایک عرصے سے اسی طرح ترو تازہ اور توانا چلا آرہا ہے۔

مثلاً اس مرتبہ اسکولوں سے باہر رہ جانے والے بچوں کی تعداد کا انکشاف خود سرکاری طور پر اور وفاقی وزیر تعلیم کی طرف سے ہوا ہے، جنہوں نے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے اس مسئلے کی سنجیدگی اور اس کو فوری طور پر حل کی طر ف لے جانے کی خاطر ایک مہم کا اعلان بھی کیا ہے جس کا عنوان ’کوئی بچہ پیچھے نہ رہ جائے‘ رکھا ہے۔ مسئلے کی سنجیدگی اور اپنی غیر معمولی پریشانی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے تعلیمی ایمرجنسی کا بھی اعلان کیا ہے۔

تعلیم کے شعبے اور اس میں ہونے والے اقدامات پر نظر رکھنے والے لوگوں کے لیے یہ بات حیرت اور دلچسپی سے خالی نہیں کہ ایسی ہی تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ حکومت کی طرف سے پہلے بھی کیا گیا تھا۔یہ 2024ء کی بات ہے ۔اُس وقت وزیراعظم شہباز شریف نے بنفس نفیس تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔

اُس وقت اسکول سے باہر بچوں کی تعداد دو کروڑ ساٹھ لاکھ بتائی گئی تھی، بعدازاں مرکزی وزارت تعلیم کی طرف سے صوبائی وزارتوں کو لکھا گیا تھا کہ اس مسئلے سے عہدہ برآ ہونے کے لیے فوری طور پر مربوط حکمت عملی وضع کی جائے۔

اس چیز کا تعین کیا جائے کہ بچوں کا تعلیمی اداروں میں داخل نہ ہونا کیا انتظامی فروگزاشت کا نتیجہ ہے یا تعلیمی اداروں کی کمی اس کا سبب ہے یا کیا ایسا ہے کہ غریب طبقے کے لوگ بچوں کو تعلیم، بلکہ مفت تعلیم بھی دلانے پراس لیے آمادہ نہیں ہیں کہ، یہ بچے محنت مزدوری کرکے گھر کا خرچہ پورا کرواتے ہیں؟

دو سال بعد اب ایک مرتبہ پھر تعلیمی ایمرجنسی کا ذکر ہورہا ہے۔ یہ نہیں معلوم کہ یہ پچھلی ایمرجنسی ہی کا تسلسل ہے یا یہ کہ یہ ازسرِ نو لگائی گئی ہے۔ خواہ یہ پچھلی ایمرجنسی ہی کا تسلسل ہو یا نئی ایمرجنسی ہو ، دونوں صورتوں میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دو سال پہلے اسکولوں تک نہ پہنچ پانے والے بچوں کی تعداد دو کروڑ ساٹھ لاکھ سے اب دو کروڑ باسٹھ لاکھ کس طرح ہوگئی ہے ؟کیا اس کا سبب آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہےیا اعدادو شمار جمع کرنے والے اداروں کا طریقہ کار کمزوری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

ایک غیر معمولی تعداد میں بچوں کا تعلیم سے محروم رہ جانا بہت گہرے غوروخوض کا تقاضہ کرتا ہے۔ بنیادی طور پر تو یہ حکومتوں ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ناکامی اور اپنی پالیسیوں کی بے بضاعتی پر غور کریں، خاص طور سے اس بات پر کہ باوجود بلند بانگ وعدوں کے وہ اس صورت حال کو کنٹرول کرنے میں ناکام کیوں رہتی آئی ہے ۔

اس سلسلے میں حکومتی ناکامیوں کے اصل اسباب کا کھوج لگائیں تو پہلی جو بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری ریاست کی ترجیحات کے پورے نقشے میں تعلیم کو کوئی قابل ذکر مقام ہی حاصل نہیں ہے۔

ریاست نے اپنے لیے جن چیزوں کو زیادہ ضروری سمجھ لیا ہے وہ بجٹ میں ان کے لیے رقم کامختص کرنا ہے۔اس وقت تعلیم کے اوپر جی ڈی پی کا1.7فی صد خرچ کیا جارہا ہے جبکہ اقوام متحدہ نے ایک عرصے سے یہ رائے دے رکھی ہے کہ تعلیم کے شعبے کو جی ڈی پی کا کم از کم 4 فی صد دیا جانا چاہیے۔

دوسری اہم بات یہ کہ تعلیم کے شعبے کو جو رقم دی بھی جاتی ہے ، دیکھا یہ جانا چاہیے کہ اس کا کتنا حصہ اخراجاتِ جاریہ کی نذر ہوتا ہے اور کتنی رقم براہ راست تعلیم دینے اور طلبہ کی ذہنی نشونما کے پر خرچ ہوتی ہے۔

تیسری اہم بات یہ کہ تعلیم کے مختلف مدارج کے درمیان کیا کوئی توازن اور کوئی ترتیب بھی موجود ہے یا نہیں۔ ہمارے یہاں یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کو تعلیمی ترقی تصور کرلیا گیا ہے۔ یونیورسٹیوں کی ضرورت اور نئی یونیورسٹیوں کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا ۔یہ بجا طور پرتعلیمی ترقی کا مظہر ہوتی ہے۔ 

لیکن سوال یہ ہے کہ ملک میں کتنی یونیورسٹیوں کی ضرورت ہے ،یہ یونیورسٹیاں واقعی یونیورسٹیوں کے معیار پر پوری اترتی بھی ہیں یا نہیں یا صرف بعض عمارتوں کو یونیورسٹیاں قرار دے کر یا وائس چانسلر مقرر کرکے اور بہت سی صورتوں میں تین چار شعبے قائم کرکے ان کو یونیورسٹی کا نام دے دینا کافی ہے۔

تعلیم کے شعبے کی ترقی، اس کے مختلف مدارج ، اور شعبہ جات کی ہمہ جہتی، ترقی ہی سے یقینی بنتی ہے۔ محض کسی ایک یا دوسرے درجے یا شعبے کی ترقی اور نشوونما سے پورے نظام تعلیم کی ترقی کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔اسکولوں کی تعلیم معیاری ہوگی اور یہاں زیادہ سے زیادہ بچے تعلیم حاصل کررہے ہوں گے تو اس سے کالجوں کی تعلیم کا معیار اوپر جائے گا۔

اسی طرح اچھے کالجوں اور اچھے اساتذہ و طلبہ سے یونیورسٹیوں کی تعلیم معیار کی حامل ہوگی۔ ہمارے یہاں اسکول خاص طور سے سرکاری اسکولوں کی تعلیم انتہائی ناقص ہے اور یہ حاصل بھی صرف ان خوش قسمتوں کو ہوپاتی ہے جو اسکولوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اسکولوں کی مجموعی طور پر بُری صورت حال ،کالجوں میں ان طلبہ کو پہنچاتی ہے جو اپنی پچھلی تعلیم ہی مناسب طور پر حاصل نہیں کر پاتے۔

کالجوں کا اپنا مجموعی ماحول ،خاص طور سے سرکاری کالجوں کا ماحول اس قدر تعلیم شکن ثابت ہوا ہے کہ اب طلبہ کو امتحان پاس کرنے کے لیے ٹیوشن سینٹروں سے بڑے خرچوں پر اپنی تیاری کرنی پڑتی ہے۔تعلیمی نظام کی اس بنیادی خامی کے پیش نظر اس خواہش کا اظہار کرنا کہ اسکولوں سے باہر بچے کسی طور اسکولوں میں داخل ہوجائیں، فی الواقعی ایک ایسی خواہش ہے جو پوری بھی ہوجائے تو کوئی ضروری نہیں کہ یہ بچے کوئی قابل ذکر استعداد کے حامل بن سکیں گے، لہٰذا ضروری ہے کہ بنیادی اور مفت تعلیم کے آئینی وعدے کی تکمیل کے لیے کی جانے والی کاوشوں کے نتیجہ خیز ہونے کو بھی ضروری سمجھا جائے۔

جہاں تک بنیادی تعلیم کے راستے میں حائل دشواریوں کا تعلق ہے، کئی دشواریاں وہ ہیں جن کا حکومت خود بھی اپنے بیانات میں ذکر کرتی رہتی ہے ۔مثلاً اس بات کا سرکاری طور پر بھی اعتراف کیا جاتا ہے کہ دیہی علاقوں میں اسکول اتنے فاصلوں پر ہیں کہ ان تک بچوں کا اور خاص طور سے بچیوں کا پہنچنا مشکل ہوتا ہے، ایسی صورت میں خود والدین بھی بچیوں کی تعلیم سے دوری کو ذہنی طور پر قبول کرلیتے ہیں۔

حال ہی میں سندھ کی حکومت نے خاص طور سے بچیوں کےاسکولوں سے دوری کے مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ اعلانات کیے ہیں۔ مثلاً یہ کہا گیا ہے کہ، اسکولوں کے ثانوی اور اعلی ثانوی سطح پر زیر تعلیم طالبات کو محفوظ سفری سہولیات فراہم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

اس سلسلے میں اس کا بھی ذکر کیا گیا کہ مختلف رُوٹس کی بنیاد پر کرائے مختص کیے جانے چاہئیں تاکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں طالبات کو تعلیم تک رسائی حاصل ہوسکے اور ان کا تعلیم ترک کردینے یا ڈراپ آئوٹ ہوجانے کا رجحان ختم ہوسکے۔

اسکولوں سے باہر بچوں کے اعداد و شمار کو اکھٹاکرنے اور مختلف علاقوں میں اس کے اسباب کا جائزہ لینے کے لیے مرکزکی سطح پریہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایک ایسے ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جائے گاجس کی رو سے مختلف شہری اور دیہی یونین کاؤنسلز کا انفردای سروے ہوگا تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جاسکے کہ اس یونین کاؤنسل میں کس کس گھر کے بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔

وفاقی حکومت نے ایک ایسی کمیٹی بھی بنائی ہے جس میں تین چار اداروں کو جگہ دی گئی ہے۔ ان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ، منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز اور منسٹری آف پاورٹی ایلیوی ایشن شامل ہیں۔

یہ کمیٹی اور بھی دوسرے اداروں سے مدد حاصل کرے گی، تاکہ تیزی کے ساتھ اس پروگرام پر عملدرآمد ہو جس کو حکومت ’کوئی بچہ پیچھے نہ رہ جائے‘کا پروگرام قرار دے رہی ہے۔ سرِدست یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کمیٹی کتنی کامیاب رہے گی اوراس وقت زیرِ غور مسئلے کو حل کرنے میں اس کی اور حکومت کے سیاسی عزم اور ارادے (Political Will)کی صورت کیا ہے۔

بہت ضروری ہے کہ حکومت جن کمزوریوں کا خود اعتراف کررہی ہے ،اور جن ناکامیوں کے بارے میں جائز اور ناجائز تاویلات اس کی طرف سے پیش کی جاتی رہی ہیں، اُن کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے۔ اس سلسلے میں جوابدہی کے احساس کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

ضروری ہے کہ ملک کی پارلیمان اور صوبائی اسمبلیاں، ان قانون ساز اداروں کی پارلیمانی کمیٹیاں، خاص طور سے وہ جو تعلیم کے اُمورسے تعلق رکھتی ہیں، اور پھر ان اداروں میں موجود حزبِ اختلاف حکومتی اقدامات پر نظر رکھیں۔

یہ بھی ضروری ہے کہ ہماری سول سوسائٹی اور زرائع ابلاغ بھی تعلیم کے شعبے میں ہونے والے اقدامات اور ان کی رفتارِ کار پر گہری نظررکھیں تاکہ ایسا نہ ہو کہ پھر دو سال بعد حکومت کی طرف سے ایک مرتبہ پھر تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان ہورہا ہو اور اُس وقت بھی اسکولوں سے باہر بچوں کی تعدادکروڑوں میں پائی جارہی ہو اور حکومت اُس وقت بھی اس بڑے بنیادی مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کررہی ہو۔

تعلیم سے مزید