• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مثبت عادات پیدا کرنے میں طلبہ کی مدد کریں

مثبت عادات طلبہ کی فلاح و بہبود اور مثبت نشوونما کے لیے اہم ہیں۔ ایسی عادات ان کے کردار کو مضبوط کرتی ہیں، جیسے کہ صبر، شکر گزاری اور دوسروں کی خدمت۔ محققین کا کہناہے کہ ہر بچہ اور نوعمر، ابتدائی اسکول، مڈل اسکول یا ہائی اسکول سے فارغ التحصیل ہونے سے پہلے، یہ ظاہر کرنے اور اس کی وضاحت کرنے کے قابل ہونا چاہیے کہ اس نے کس طرح مثبت عادات پیدا کیں اور کیسے ان پر مسلسل عمل کیا۔

مثبت عادات طالب علموں کو اپنے ’کردار کےاہداف‘ حاصل کرنے میں مدد کرتی ہیں، جو انھوں نے اپنے لیے متعین کیے ہوتے ہیں، جیسے کہ دیانت دار شخص ہونا یا ایسا شخص بننا جو دوسروں کے لیے مہربان اور مددگار بننے کی کوشش کرتا ہے۔ کوئی بھی طالب علم خود میں مثبت عادات پیدا کیے بغیر بہترین نہیں بن سکتا۔ نقطہ آغاز کے طور پر، طالب علموں کو عادات کے بارے میں سکھانے کے لیے یہاں پانچ تصورات ہیں، جو کہ ان کی زندگی میں پیداواری مہارتوں اور بامعنی طرز عمل کو بنانے میں ان کی مدد کریں گے۔

آپ خود اپنی عادات ہیں

تحقیق سے واضح ہے کہ ہمارے 40سے50فیصد افعال، عادات کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کی اپنی صبح کی عادات ہیں، کھانے اور سونے کے وقت کی عادات بھی الگ الگ ہیں۔ سادہ لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہماری زندگی عادات پر چلتی ہے۔ معلمین کو اپنے طلبہ کو یہ سمجھنے کی ترغیب دینا چاہیے کہ ان کی عادتیں ہی اس بات کا تعین کرتی ہیں کہ وہ کون ہیں اور کس قسم کا انسان بننا چاہتے ہیں۔

ہم عادات کیسے بناتے ہیں

زیادہ تر طلبہ آٹھویں جماعت میں نیوٹن کے حرکت کے تین قوانین کے بارے میں سیکھتے ہیں۔ لیکن شاید ہی کوئی ایسا نصاب ہو جس میں طالب علم مثبت عادات پیدا کرنے کی سائنس کے بارے میں سیکھتے ہوں۔ ہر طالب علم کو ’عادت کے لوپ‘ کے بارے میں سیکھنا چاہیے۔ خواہ یہ عادت اچھی ہو یا بری، عادت کے میکانکس ایک جیسے ہوتے ہیں۔ 

ہم ایسی مخلوق بنے ہوئے ہیں جو فوری تسکین کی خواہش رکھتے ہیں۔ اشارے ہماری عادات کو جنم دیتے ہیں اور ہماری خواہشیں ہر عادت کے پیچھے محرک قوتیں ہیں۔ یہ عمل روزمرہ عادات کے لیے کافی سیدھا ہے۔ مثال کے طور پر، جب کوئی طالب علم اسکول سے گھر آتا ہے (cue)، تو جب وہ اسنیک (craving) دیکھتے ہیں تو ان کے ڈوپامائن میں اضافہ ہوتا ہے، اور وہ اسے کھانا (responce) شروع کر دیتے ہیں۔

اسی طرح جب کوئی طالب علم ہر روز اسکول سے گھر آتا ہے، تو وہ اپنی دادی کو یہ جاننے کے لیے فون کرتا ہے کہ وہ کیسا محسوس کر رہی ہیں۔ اپنی دادی کی آواز میں خوش مزاجی سننا طالب علم کا مثبت انعام ہے۔ 

محققین نے یہ بھی دریافت کرنا شروع کر دیا ہے کہ عادتیں برقرار رہتی ہیں یہاں تک کہ جب ہم انعام کی اتنی قدر نہیں کرتے جتنی ہم نے پہلے کی تھی (یا اس وقت بھی جب انعام دستیاب نہیں ہے)۔ یہ ہم میں سے ان لوگوں کے لیے اچھی خبر ہے جو مثبت عادات کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔ ان عادات پر مسلسل عمل کرنے کے بعد یہ ہماری شناخت کا حصہ بن جاتی ہیں۔

مستحکم اشارے مثبت عادات بنانے کی کلید 

ایک ناگزیر ’عادت کا اصول‘ اپنایا جاسکتا ہے جیسے کہ ایک طالب علم نے فیصلہ کیا کہ وہ پینٹنگ سیکھنا چاہتا ہے۔ وہ اپنا ہوم ورک ختم کرتا ہے (cue)۔ طالب علم کے لیے اس نئی عادت یا معمول کو اپنانے کی کلید یہ ہے کہ وہ ہر روز جیسے ہی مطالعہ ختم کرے، اس سرگرمی کو دہرائے۔

دیگر مستحکم اشاروں میں جاگنا یا بستر پر جانا، دانت صاف کرنا، یا کھانا کھانا شامل ہو سکتے ہیں۔ کوئی بھی ایسی حرکت جو باقاعدگی سے ہوتی ہے، اسے طالب علم اپنی عادت کا حصہ بناسکتے ہیں۔ محققین سیکھ رہے ہیں کہ عادت کے مستحکم اشارے ہمارے ذہن کو منظم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ایک ہی معمول کا بار بار ہونا ہمارے دماغ کو دوبارہ منظم کرتا ہے۔

کام کرنے والی ’عادت کی ہیک‘

ہمیں ایک مشکل عادت کو آسان عادت سے جوڑنا چاہیے۔ مثال کے طور پر، موسیقی سننے کے دوران طلبہ کو اپنے کام (ایک مشکل عادت) کرنے کی ترغیب دینا (ایک آسان عادت)۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب نے، کسی نہ کسی وقت، ایک وعدہ توڑا ہے جو ہم نے خود سے کیا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی عادت کے منصوبے کو کسی ایسے شخص کے ساتھ شیئر کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے جو ہمیں جوابدہ ٹھہرائے، جیسے کہ دوست، والدین یا استاد۔ 

کسی ایسے شخص سے وابستگی قائم کرنا جسے ہم جانتے ہیں اور اس پر بھروسہ کرنا اکثر وہ ایندھن ہوتا ہے جس کی ہمیں ایک مثبت عادت پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو زیادہ شدت سے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اندرونی اور بیرونی توقعات کا کتنا اچھا جواب دیتے ہیں۔ 

اگرچہ کچھ لوگ عادات کے حوالے سے قطعی طور پر جوابدہ ٹھہرانا چاہتے ہیں، لیکن دوسرے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عادات کیوں ضروری ہیں، اس سے پہلے کہ وہ ان کو اپنانےکا سوچیں۔ آخر میں، جب عادات ڈالنے کی بات آتی ہے، تو ہر طالب علم کو مثبت اثبات کی طاقت کے بارے میں جاننا چاہیے۔ مثبت گفتگو کے ساتھ منفی گفتگو کو رد کرنا ایک ایسی عادت ہے جو آسانی سے کام کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، طلبہ خود کو یاد دلانے کے لیے دہرانے کی مثبت ذہنی عادت پیدا کر سکتے ہیں۔

اہداف کا تعین اور مکمل قوت ارادی کافی نہیں

ابھرتی ہوئی تحقیق ہماری دیرینہ افسانوی باتوں کو توڑ رہی ہے کہ اہداف کا تعین اور خود پر قابو رکھنا عادات کی تشکیل کی چوٹیاں ہیں۔ صرف نیتوں سے رویے نہیں بدلتے۔ مزید یہ کہ قوتِ ارادی ایک ایسی چیز ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔ کوئی بھی شخص خود انکاری سے بھری زندگی نہیں گزار سکتا۔ طویل مدتی اہداف رکھنے کے علاوہ، طلبہ کو اپنی عادات کی ’منصوبہ بندی‘ کرنے کی ضرورت ہے۔ 

عادات کی منصوبہ بندی حوصلہ افزائی اور قوت ارادی سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ ایک نئی مثبت عادت پیدا کرنا انسانی انجینئرنگ کی ایک شکل ہے، جس کے لیے طلبہ کو اپنے بہترین اشارے/ایکشن پیٹرن کو دریافت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، کچھ اسکول طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ شکر گزاری کی اپنی روزانہ کی عادت پیدا کریں۔ 

طلبہ کو ایک ایسے اشارے/ایکشن پیٹرن کی نشاندہی کرنی ہوگی جو کہ ان کے لیے بہترین کام کرے (صبح کے وقت یا سونے سے پہلے)، اور ساتھ ہی اس بات پر تنقیدی طور پر سوچنا ہوگا کہ کیا چیز ان کو شکر گزاری کی عادت پیدا کرنے سے روک سکتی ہے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ طلبہ کو مثبت عادات کی توانائی اور طاقت کو بروئے کار لانے میں مدد کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔

تعلیم سے مزید