کراچی وہ شہر ہے جہاں سمندر کی ہوا کے ساتھ خوابوں کی سرگوشیاں بھی چلتی ہیں، جہاں ہر گلی میں اُمید کا کوئی نہ کوئی چراغ جلتا دکھائی دیتا ہے۔ مگر ان چراغوں کی روشنی سب کے لیے یکساں نہیں۔ تعلیم، جو روشنی کے ساتھ ساتھ، کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد اور نوجوانوں کے سنہرے مستقبل کے لیے خواب سمجھی جاتی ہے، لیکن کراچی کی تعلیم میں تعداد اور معیار کے درمیان تضاد نوجوانوں کے امکانات و خوابوں کو نگلتا جا رہا ہے۔
اس شہر میں تعلیمی اداروں کی بھرمار ہے لیکن کل تعداد کے حوالے سے کوئی حتمی اور متفقہ اعداد و شمار دستیاب نہیں، البتہ غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق شہر میں تقریباً 1914 سرکاری، جب کہ نجی اسکولوں کی تعداد بیس ہزار (20000) کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ سرکاری کالجوں کی تعداد 154 ہے، مگر بعض ذرائع یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مجموعی طور پر سرکاری و نجی تقریباً 329 کالجز فعال ہیں۔
جامعات کی تعداد لگ بھگ پچاس بتائی جاتی ہے۔ بظاہر یہ اعداد و شمار کراچی کو ایک مضبوط تعلیمی مرکز، ایک “تعلیمی ہب” ثابت کرتے ہیں، مگر سوال یہ نہیں کہ ادارے کتنے ہیں، سوال یہ ہے کہ ان اداروں کے دروازے کن کے لیے کھلے ہیں، اوریہاں کس درجے کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ اعداد و شمار کے اس جنگل میں ایک تلخ حقیقت چھپی ہے۔ تعداد اور معیار کے درمیان ایک گہری خلیج ہے۔
ایک طرف وہ اسکول اور کالج ہیں جہاں جدید نصاب، تربیت یافتہ اساتذہ، لائبریریاں، لیبارٹریاں اور ہم نصابی سرگرمیاں ہوتی ہیں، دوسری طرف وہ ادارے ہیں جہاں کمرۂ جماعت تو ہیں، مگرکہیں اساتذہ کی شدید کمی ہے، کہیں نصاب دہائیوں پر انا اور کہیں طلبہ کی تعداد اس قدر زیادہ کہ ان کی تربیت برائے نام ہوتی ہے۔
بعض سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، کہیں واش روم نہیں، کہیں بجلی نہیں، کہیں عمارت تو ہے مگر کھڑکیاں اور دروازے ندارد۔ بے شک سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارتیں تو بڑی بڑی ہیں مگر ان کا حال ناقابل بیان ہے۔یہ عدم مساوات محض اداروں تک محدود نہیں، بلکہ بچوں تک جا پہنچتی ہے۔
اندازوں کے مطابق پاکستان میں اسکول نہ جانے والے ڈھائی کروڑ بچوں میں سے بائیس(22) لاکھ بچے کراچی سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو کچی آبادیوں، اور غربت میں آنکھ کھولتے ہیں، ان بچوں کے لئے خانہ بدوش کی اصطلاح زیادہ بہتر لگتی ہے، جہاں غربت، چائلڈ لیبر، عدم تحفظ اور تعلیمی اداروں تک رسائی کی کمی تعلیم کے راستے میں دیوار بن جاتی ہے۔ ان میں لڑکیوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے، کیوں کہ ثانوی سطح کے اسکولوں کی کمی اور سماجی دباؤ انہیں کم عمری میں گھریلو ذمہ داریوں تک محدود کر دیتا ہے۔
کہیں کسی این جی او نے ان بچوں کے لیے اسٹریٹ اسکول قائم کرنے کی کوشش کی تھی، مگر دم توڑ گئی۔ یہ صورتِ حال محض تعلیمی ناکامی نہیں، بلکہ ایک خاموش شہری بحران ہے۔ آج کے یہ بچے کل کے غیر ہنرمند، غیر محفوظ اور معاشی طور پر کمزور شہری بننے کے خطرے سے دوچار ہیں، یہی وہ قیمت ہے جو کراچی، آنے والی دہائیوں میں ادا کرے گا۔
شہر کے مختلف علاقوں کے درمیان تعلیمی تفاوت اس بحران کو مزید گہرا کرتا ہے۔ پوش علاقوں میں قائم اسکول اور کالج عالمی معیار سے قریب دکھائی دیتے ہیں، جب کہ کم آمدنی والے علاقوں میں تعلیم اب بھی بنیادی سہولت کے درجے تک نہیں پہنچ سکی۔ سوال یہ نہیں کہ اسکول کتنے ہیں، سوال یہ ہے کہ اچھے اسکولوں تک کتنے بچے پہنچ رہے ہیں، اور کتنے محض فاصلے، فیس یا عدم تحفظ کے باعث باہر رہ جاتے ہیں۔
کالجوں اور جامعات کی دستیابی بلاشبہ ایک مثبت پہلو ہے، مگر یہاں بھی مسئلہ رسائی، معیار اور مطابقت کا ہے۔ ہر سال ہزاروں نوجوان ان اداروں کے دروازوں تک تو پہنچتے ہیں، مگر داخلے کے سخت قوانین، بڑھتی ہوئی فیسیں، تعلیم کا غیر مربوط معیار اور عملی تربیت کی کمی انہیں پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ بہت سے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کا خواب اسی لمحے بکھر جاتا ہے جب فیس کا پرچہ سامنے آتا ہے۔ یوں تعلیم، جو سماجی سیڑھی بننی چاہیے تھی، سماجی دیوار بن جاتی ہے۔کراچی کے بڑے اور نامور نجی تعلیمی اداروں کی فیس نے اس دیوار کو اور بلند کر دیا ہے۔
نرسری سے او اور اے لیول تک سالانہ اخراجات عموماً تین سے آٹھ لاکھ روپے تک ہوتے ہیں، جب کہ بعض بین الاقوامی نصاب رکھنے والے اسکولوں میں یہ لاگت اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ کتابیں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ اور امتحانی اخراجات الگ ہیں، نتیجہ یہ کہ ایک متوسط یا نچلے متوسط طبقے کے لیے معیاری نجی تعلیم تقریباً ناقابلِ حصول ہو جاتی ہے۔
یوں معیار اور سہولت کے نام پر قائم یہ ادارے نادانستہ طور پر سماجی تفریق کو گہرا کرتے ہیں۔ ایک طرف فیس ادا کرنے کی استطاعت رکھنے والے بچوں کے لیے عالمی مواقع، دوسری طرف لاکھوں بچے جو محض مالی مجبوری کے باعث اسی شہر میں تعلیم کے دائرے سے باہر رہ جاتے ہیں۔ ایک اور بنیادی مسئلہ نصاب اور روزگار کے درمیان کمزور ربط ہے۔
تعلیمی ادارے ڈگریاں تو دیتے ہیں، مگر کیا وہ ہنر بھی دیتے ہیں؟ کیا نوجوانوں کو وہ مہارتیں سکھائی جا رہی ہیں جن کی منڈی کو واقعی ضرورت ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ڈگری یافتہ بے روزگاری کراچی کا ایک خاموش مگر سنگین بحران بنتی جا رہی ہے۔ تعلیم اگر روزگار سے کٹی رہے تو نوجوانوں میں مایوسی جنم لے سکتی ہے، جو کسی بھی معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہوتی ہے۔
کراچی جیسے بڑے اور پیچیدہ شہر میں تعلیم کا مسئلہ محض تعلیمی پالیسی کا نہیں، بلکہ شہری انصاف کا ہے۔ جب ایک طالبعلم روزانہ طویل سفر، غیر محفوظ راستوں اور ناکافی ٹرانسپورٹ کا سامنا کرتا ہے تو اس کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ جب ایک طالبہ کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول میسر نہیں ہوتا تو اس کی حاضری کم ہو جاتی ہے۔ یہ سب عوامل مل کر اس وعدے کو کھوکھلا کر دیتے ہیں کہ ’’تعلیم سب کے لیے ہے‘‘۔
اساتذہ کی تربیت اور فلاح اس پورے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ بہترین عمارتیں اور جدید نصاب بھی اس وقت بے اثر ہو جاتے ہیں جب استاد خود سیکھنے اور سکھانے کے جدید طریقوں سے ناآشنا ہو۔ استاد کی عزت، پیشہ ورانہ ترقی اور معاشی تحفظ براہِ راست تعلیمی معیار سے جڑے ہیں، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں استاد کو اکثر نظام کی کمزور کڑی سمجھا جاتا ہے، حالاں کہ وہی اصل ستون ہے۔ ان کی کم تنخواہیں اور محدود مراعات پورے نظام کو کمزور کر دیتی ہیں۔یہاں نجی اور سرکاری شعبے کے درمیان توازن کا سوال بھی اہم ہے۔
نجی اداروں نے تعلیمی خلا پُر کیا ہے، مگر ان کی فیسیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ سرکاری ادارے کم لاگت ضرور ہیں، مگر وسائل اور انتظامی کمزوریوں کا شکار ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں شعبے ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے مددگار بنیں۔ مشترکہ معیارات، شفاف نگرانی اور جواب دہی کے ساتھ۔ تعلیم کو شہر کی معاشی حکمتِ عملی سے جوڑنا بھی ناگزیر ہے۔
اگر صنعت، ٹیکنالوجی، تجارت اور خدمات کے شعبے تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت کریں تو انٹرن شپ، اپرنٹس شپ اور عملی منصوبے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگارکے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔ اس کے لیے مربوط پالیسی درکار ہے، جو حکومت ہی کو بنانی ہوگی۔ ڈیجیٹل دور میں ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی بھی لازمی ہے۔
آن لائن وسائل، ڈیجیٹل لائبریریاں اور ہائبرڈ لرننگ تبھی مؤثر ہو سکتی ہیں جب ہر طالبعلم کے پاس انٹرنیٹ، آلات اور تربیت ہو،ورنہ ڈیجیٹل خلا، تعلیمی خلا کو اور گہرا کر دے گا۔ ہمیں محض اداروں کی تعداد بڑھانے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ معیار، مساوی رسائی، اساتذہ کی طاقت، نصاب کی مطابقت اور روزگار سے جڑے مواقع سب کو یکساں بنیادوں پر فراہم کرنا چاہیے۔ مستقبل کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لیے ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا، کیا ہم اعداد و شمار سے مطمئن رہیں گے یا انسانی امکان کو مرکز بنا کر تعلیم کوعام حقیقی معنوں میں سب کے لیے کریں گے۔