• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعلیم گاہیں ہمیشہ سے معاشرے کی تعمیر کا مرکز رہی ہیں۔ یہاں صرف کتابی علم ہی نہیں بلکہ کردار، اخلاق اور شعور کی آبیاری بھی کی جاتی ہے۔ استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا گیا، اس کے سامنے سر جھکانا عزت کی علامت سمجھا گیا۔ لیکن اب اس مقدس رشتے میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔

جب استاد ہی اعتماد توڑنے لگیں، جب رہنما ہی راہزن بن جائیں، تو پھر شاگرد کہاں جائیں؟حالیہ برسوں میں تعلیمی اداروں میں طالبات کو ہراساں کرنےکے واقعات میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے، وہ نہ صرف تشویش ناک ہے بلکہ ہمارے پورے تعلیمی نظام خاص طور پر اساتذہ کے کردار پر ایک سوالیہ نشان بھی ہے۔

گریڈز اور نمبروں کے بدلے استحصال کی کہانیاں اب محض افواہیں نہیں رہیں بلکہ تلخ حقیقت کے طور پر سامنے آ رہی ہیں۔ کہیں ویڈیو اسکینڈلز ہیں، کہیں کردار کشی کے حربے، اور کہیں خاموشی کی زنجیریں، جو متاثرہ طالبات کو بولنے نہیں دیتیں۔

ایسی ہی ایک تازہ مثال اپریل کے اوائل میں میرپورخاص کے سیٹلائٹ ٹاؤن میں واقع محمدی میڈیکل کالج کی ہے، جہاں 21 سالہ طالبہ فہمیدہ لغاری نے خودکشی کر کےزندگی کے بکیھڑوں سے آزاد ہو گئی۔ یہ محض ایک افسوس ناک واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جو ہمارے پورے تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔

یہ سانحہ ایک معصوم جان کے ضیاع سے کہیں بڑھ کر، مقدس پیشے پر لگنے والا سنگین الزام، ایک معاشرتی چیخ، اور تعلیمی اداروں میں عدم تحفظ کا کھلا اعتراف ہے۔ وہ ادارے جو علم، شعور اور کردار سازی کے مراکز سمجھے جاتے ہیں، آج طالبات کے لیے خوف، استحصال اور بے بسی کی علامت بنتے جا رہے ہیں، بعض واقعات میں طالبات کے ہی نہیں والدین کے اعتماد کوٹھیس پہنچی۔

یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے، جو وقفے وقفے سے سامنے آنے والے واقعات کے ذریعے سچ ثابت ہورہی ہے۔ فہمیدہ لغاری کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، معلومات کے مطابق فہمیدہ ایک استاد اور چند طلبہ کی جانب سے ہراسگی کا شکار تھی، جس کی شکایت اُس نے کالج انتظامیہ سے کئی بار کی لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی، نہ صرف یہ بلکہ اُستاد کی جانب سے ایک دھمکی آمیز وائس نوٹ بھی آیا، جس کے بعدفہمیدہ نے اپنی زندگی کی ڈور اپنے ہاتھوں کاٹ دی مگراپنے پیچھے کئ سوال چھوڑ گئی۔ 

ان واقعات کی شدت اورنوعیت کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظامِ تعلیم کا مقدمہ بنا دیتی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق طالبہ فہمیدہ کو مبینہ طور پر کالج کے پرنسپل، اساتذہ اور طلبہ کے ایک گروہ کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا۔ الزام ہے کہ اسے بلیک میل کیا گیا، اس کے خلاف سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے کردار کشی کی گئی، اور جب اس نے شکایت کی کوشش کی تو اسے انصاف کے بجائے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ طالبہ کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اس نے متعدد بار کالج انتظامیہ کو شکایات کیں، مگر کارروائی کرنے کے بجائے اسے ہی شکایت واپس لینے پر مجبور کیا گیا، یہاں تک کہ داخلہ منسوخ کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ محض غفلت نہیں بلکہ ایک سنگین ادارہ جاتی جرم ہے، جس کی ذمہ داری براہِ راست انتظامیہ، خصوصاً پرنسپل پر عائد ہوتی ہے۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایسے واقعات کے بعد ایک طے شدہ ردعمل دیکھنے میں آتا ہے: تعزیتی بیانات، نوٹس لینے کے اعلانات، انکوائری کمیٹیوں کی تشکیل، اور پھر وقت کے ساتھ سب کچھ سرد خانے کی نذر ہو جانا۔

اس کیس میں بھی صوبائی حکام کی جانب سے نوٹس لینے اور تحقیقات کے اعلانات سامنے آئے، مگر جن افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، اُن میں سے کچھ قانون کی گرفت میں آئے، تادم تحریر سب ملزمان گرفتار نہیں ہوئے۔ اس صورتحال سے عوام کے ذہنوں میں ایک ہی سوال آتا ہے،کیا یہ واقعہ بھی دیگر واقعات کی طرح فائلوں میں دفن ہو جائے گا؟

یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل 2017 میں اسی کالج سے ایک طالبہ کی لاش ملی تھی ،جس نےہاسٹل کی چھت سے کود کر خود کشی کی تھی ۔گزشتہ چند برسوں میں ملک کے مختلف تعلیمی اداروں میں ایسے متعدد واقعات منظر عام پر آچکے ہیں، لاہور میں ایک طالبہ کی پراسرار موت، ملتان میں ویڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ، بہاولپور یونیورسٹی کیس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں پے در پے، طالبات کی خودکشی کے واقعات نے پریشان ہی نہیں کیا، یہ بھی اندازہ ہوا کہ ہمارے تعلیمی ادارے تو اپنے بچوں کو تحفظ دینے میں یک سر ناکام ہیں، خصوصا طالبات، جنہیں ہراساں کیا جاتا ہے اور ہراساں کرنے والے غیر نہیں اُسی ادارے کے اساتذہ یا طلبا ہوتے ہیں، مگر ان میں سے کتنے مقدمات منطقی انجام تک پہنچے؟ کتنے مجرموں کو سزا ملی؟ اور کتنے اداروں کے سربراہان کو جواب دہ ٹھہرایا گیا؟یہی وہ سوالات ہیں جو ہمارے تعلیمی نظام کی کمزوری کو بے نقاب کرتے ہیں۔

حال ہی میں وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے سینٹ میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ 2021ء سے 2025ء کے دوران اسلام آباد میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات کے سلسلے میں 222 افراد کو گرفتار کیا گیا، لیکن صرف 12 کو سزا سنائی گئی، جب کہ 163 مقدمات زیر سماعت ہیں، 15 کو بری کر دیا گیا، اور 26 افراد ابھی تک گرفتار ہی نہیں ہوئے۔ گویا 5 سال کے دوران 222 میں سے صرف 12 ورثاء کو انصاف مل سکا جن کے لخت جگروں سے معاشرے نے جینے کا حق چھننے کی کوشش کی۔

ایک عام انسان، جو بااثر نہیں، غریب ہے، یا وائٹ کالر ہے اس ملک میں وہ کیسے زندہ رہے، وہ بچوں کو تعلیم کیسے دلائے بچہ گلی میں محفوظ نہیں اور بچی درسگاہ میں خوف زدہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جرائم دیدہ دلیری سے ہو رہے ہیں، مجرموں کو یقین ہے کہ وہ بچ نکلیں گے، یہی یقین جرائم کو تقویت دیتا اور عام انسان کو اداروں اور ریاست پر سے اعتماد ختم کر کے احساس محرومی دلاتا ہے یہ ملک و معاشرے کے لیے خطرے ناک صورت حال ہے۔ مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ہراسانی کے زیادہ تر واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

اس کی بنیادی وجہ خوف ہے، بدنامی کا خوف، مستقبل تباہ ہونے اور انصاف نہ ملنے کا خوف۔ فہمیدہ لغاری کا واقعہ اسی خوف کی انتہا ہے، جہاں ایک طالبہ نے زندگی کے بجائے موت کو آسان راستہ سمجھ لیا۔ اگر اُسے اپنےادارے اور معاشرے پر اعتماد ہوتا تو وہ کبھی انتہائی اقدام نہ اٹھاتی۔

یہ نظام پر مایوسی کی انتہا ہے۔ یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر تعلیمی ادارے میں اساتذہ اور طلبہ کا ایک گروہ کسی طالبہ کو مسلسل ہراساں کر رہا تھا، تو کیا یہ سب کچھ تنہائی میں ہو رہا تھا یا اس کے پیچھے ایک ایسا ماحول تھا جہاں خاموشی کو ہی پالیسی بنا لیا گیا ہےاور جہاں طاقتور افراد کو غیر اعلانیہ تحفظ حاصل ہے۔

یہ معاملہ کسی ایک ادارے یا ایک شہر تک محدود نہیں بلکہ پورے نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب شکایات کو دبایا جائے، متاثرین کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جائےاور طاقتور احتساب سے بالاتر ہو جائیں، تو ایسے واقعات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ فہمیدہ لغاری کے مقدمے کو ایک مثال بنایا جائے۔ شفاف، غیر جانبدار اور تیز رفتار تحقیقات کی جائیں۔ اگر الزامات ثابت ہوں تو ذمہ داران کو عبرت کا نشان بنایا جائے، تاکہ آئندہ کسی کو اپنے منصب کے ناجائز استعمال کی جرات نہ ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے خلاف مؤثر اور قابلِ اعتماد نظام قائم کرنا ناگزیر ہے۔ ایسا نظام جو صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ ہو بلکہ طلبہ اور والدین کا اعتماد حاصل کر سکے۔ شکایات کے اندراج کے لیے محفوظ اور خفیہ طریقہ کار ہواور متاثرہ افراد کو مکمل قانونی و سماجی تحفظ فراہم کیا جائے۔ طلبہ یونینز کی بحالی بھی اس سلسلے میں ایک اہم قدم ہو سکتی ہے۔

جہاں طلبہ کو نمائندگی اور آواز ملتی ہے، وہاں ناانصافی کے خلاف مزاحمت پیدا ہوتی ہے۔ یونینز پر پابندی نے طلبہ کو بے آواز کر دیا ہے، جس کا فائدہ ایسے عناصر اٹھاتے ہیں جو احتساب سے بچنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمیں بطور معاشرہ اپنی ترجیحات پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے۔ ہم نے تعلیمی اداروں کو محض ڈگریاں دینے والی فیکٹریاں بنا دیا ہے، جہاں کردار سازی اور اخلاقی تربیت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

جب تعلیم کا مقصد صرف معاشی دوڑ بن جائے تو انسانی اقدار پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ فہمیدہ لغاری کا مقدمہ ہم سب کے لیے ایک آزمائش ہے۔ یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اسے بھی دیگر واقعات کی طرح وقت کے ساتھ بھلا دیں گے یا ایک کیس بنا کر اپنے نظام کو درست کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں گے۔ اگر اس بار بھی ہم خاموش رہےتو کل کوئی اور فہمیدہ اسی طرح اپنی جان دے دے گی اور ہم چند دن شور مچا کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیں گے۔

تعلیم سے مزید