شہر کراچی کبھی علم، تحقیق اور فکری بالیدگی کا ایک درخشاں مرکز سمجھا جاتا تھا، جو نہ صرف معاشی سرگرمیوں کا محور تھا بلکہ یہاں کے تعلیمی ادارے بھی علمی معیار اور تعلیمی وقار کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ وہ بھی کیا دور تھا جب کراچی کے کالجوں اور جامعات سے فارغ التحصیل طلبہ ملکی و عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرتے اور پاکستان کا نام روشن کرتے تھے۔لیکن آج وہی ادارے اپنی سابقہ علمی عظمت برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
ماضی میں تعلیمی ادارے محض درسگاہیں نہیں بلکہ شخصیت سازی، کردار سازی اور قیادت کی تربیت کے مراکز تھے۔ جس زمانے میں کراچی کے کلکٹر، کیپٹن پریڈی تھے، ان کی کاوشوں سے عام شہریوں کے لیے1854ء میں، سی ایم ایس ہائی اسکول قائم ہوا۔ ابتدا میں اسے ’’فری اسکول‘‘ کہا جاتا تھا، بعد میں اس کا نام چرچ مشنری سوسائٹی اسکول رکھ دیا گیا۔
یہ ادارہ اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ یہاں انگریزی تعلیم دی جاتی تھی جو اس دور میں جدید تعلیم کی علامت سمجھی جاتی تھی۔بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے اس اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔یہاں فارسی اور سندھی بھی پڑھائی جاتی تھی۔
اس وقت فارسی پڑھنے کی فیس چار آنے اور سندھی پڑھنے کی ایک آنہ مقرر تھی، تاہم اسی سال یعنی 1854ء میں سندھی زبان کی تعلیم کو مفت قرار دے دیا گیا تھا ۔ آج یہ تاریخی ادارہ، اپنے ماضی کےمعیار کو برقرار رکھنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔اسی طرح سندھ مدرسۃ الاسلام کا شماربھی کراچی کے قدیم اور معتبر علمی مراکز میں ہوتا ہے۔
اس ادارے کی بنیاد یکم ستمبر 1885ء کو معروف ماہر تعلیم اور سماجی رہنما حسن علی آفندی نے رکھی تھی۔ یہ ادارہ نہ صرف کراچی کی علمی تاریخ کا ایک اہم باب ہے بلکہ اسے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی مادرِ علمی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
سندھ مدرسۃ الاسلام سے فیض یاب ہونے والوں میں قائد اعظم محمد علی جناح کے علاوہ سر عبد اللہ ہارون، سر شاہنواز بھٹو، سر غلام حسین ہدایت اللہ خان، ایوب کھوڑو، شیخ عبدالمجید سندھی، علامہ آئی آئی قاضی، محمد ہاشم گزدر، غضنفر علی خان، چودھری خلیق الزماں، ڈاکٹر عمر بن محمد دائود پوتہ، محمد ابراہیم جویو، جسٹس سجاد علی شاہ، قاضی محمد عیسیٰ، رسول بخش پلیجو، اے کے بروہی، علی احمد بروہی، پیر الٰہی بخش، سمیت بے شمار اہلِ علم، شعرا، ادبا، وکلا اور سیاست دان شامل ہیں۔
یہ ادارہ ایک زمانے میں علم و شعور کی ایسی نرسری اور روشنی کا مینار تھا جس نے اپنے شاگردوں کے ذریعے ملک اور بیرونِ ملک پاکستان کا نام روشن کیا۔ آج اس عظیم درس گاہ سے ویسی قد آور اور ہمہ جہت شخصیات کم ہی عالمی سطح پر اس ادارے کی سابقہ روایات کو دوبارہ اُجاگر کر رہی ہیں۔
سینٹ پیٹرک اسکول و کالج،ایک مشہور رومن کیتھولک درسگاہ ہے۔ اس تعلیمی ادارے کا قیام 16 جنوری 1861کو ہوا، یہاں سے ملک کی کئی نمایاں شخصیات نے تعلیم حاصل کی۔ ان میں سابق آرمی چیف اور صدر جنرل پرویز مشرف، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، صدر آصف علی زرداری اورمعروف بیوروکریٹ عبدالکریم لودھی شامل ہیں۔ یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کراچی کا شمار شہر کے قدیم تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے، آج بھی یہ شہر کے تعلیمی اُفق پر ایک درخشاں نام ہے۔ اس ادارے کی بنیاد 1887ء میں سندھ کے ممتاز ہندو وکیل، مخیر شخصیت اور سماجی رہنما سیٹھ دیارام جیٹھ مل نے رکھی۔ ابتدا میں یہ ادارہ ایم اے جناح روڈ پر واقع ٹھٹھائی کمپاؤنڈ کے ایک گھر میں قائم کیا گیا تھا۔
طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث اسی سال 14 نومبر 1887ء کو اس کی موجودہ عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ وقت کے ساتھ یہ ادارہ کراچی اور سندھ کے ممتاز تعلیمی مراکز میں شمار ہونے لگا۔ اس درسگاہ کے فارغ التحصیل طلبا میں سندھ کے ممتاز رہنما غلام حسین ہدایت اللہ، بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیاء الرحمن، محسنِ پاکستان اور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ممتاز نیوکلیئر سائنسدان ڈاکٹر بدر الاسلام اور امریکی خلائی ادارے ناسا سے وابستہ سائنسدان شیخ لیاقت حسین جیسے نام نمایاں ہیں۔
اسی ادارے سے پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہان جنرل جہانگیر کرامت اور جنرل آصف نواز جنجوعہ، ایئر مارشل عظیم داؤد پوتہ، سابق وزیرِ اعلیٰ سندھ محمد ایوب کھوڑو، معروف سیاستدان امداد علی بھٹو اور موجودہ وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی تعلیم حاصل کی۔
سماجی خدمت اور طب کے میدان میں بھی اس ادارے کے فارغ التحصیل افراد نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی (سربراہ SIUT) اور طبی تعلیم کے شعبے کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر ایف یو بقائی بھی اسی ادارے کی علمی روایت کی نمائندہ شخصیات ہیں۔
سیاسی و سماجی میدان میں محمود اے ہارون، مظفر حسین شاہ، سابق اسپیکر قومی اسمبلی الٰہی بخش سومرو، نثار کھوڑو، سابق وفاقی وزیر عبدالحفیظ پیرزادہ، تاج حیدر، نثار میمن اور جاوید سلطان جاپان والا جیسے رہنما بھی اسی ادارے سے وابستہ رہے۔
علم و ادب کی دنیا میں بھی ڈی جے کالج کا کردار نہایت روشن ہے۔ جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی، نامور محقق ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، سابق پرنسپل ایس ایم سائنس کالج پروفیسر حشمت اللہ لودھی، ممتاز سندھی شاعر شیخ ایاز اور معروف ماہرِ تعلیم پروفیسر انیتا غلام علی جیسے نام اسی علمی روایت کی تابناک کڑیاں ہیں۔
کھیل کے میدان میں بھی اس ادارے کے طلبہ نے پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں کیا۔ قومی ہاکی ٹیم کے نامور کھلاڑی حسن سردار، منور الزماں، شاہد علی خان اور صفدر عباس اسی ادارے کی تعلیمی و تربیتی فضا میں پروان چڑھے۔ یہ تمام شخصیات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈی جے کالج صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک ایسی تاریخی درسگاہ ہے جس نے معاشرے کے مختلف شعبوں میں قیادت، علم اور خدمت کی روشن مثالیں قائم کی ہیں۔
1960 کی دہائی میں بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اپنی ذاتی کاوشوں، عزم اور مالی وسائل سے کراچی میں اردو کالج کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد صرف ایک تعلیمی درسگاہ قائم کرنا نہیں تھا بلکہ ایک ایسی فکری تحریک کو جنم دینا تھا جس کے ذریعے اردو زبان میں اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولے جا سکیں۔
مولوی عبدالحق اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ قوم کی فکری اور علمی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب طلبہ کو اپنی قومی زبان میں علم حاصل کرنے کا موقع میسر ہو۔اردو کالج کے قیام کے بعد یہ ادارہ جلد ہی کراچی کے اہم تعلیمی اداروں میں شمار ہونے لگا۔ یہاں نہ صرف تدریسی معیار کو فروغ دیا گیا بلکہ ادبی و فکری سرگرمیوں کی بھی بھرپور روایت قائم ہوئی۔
اس ادارے سے فارغ التحصیل بے شمار طلبہ نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں مقام حاصل کیا اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا،تاہم بظاہر تو ادارہ اپنی عمارتوں اور انتظامی ڈھانچے کے اعتبار سے پھیلتا اور ترقی کرتا دکھائی دیتا ہے، مگر تعلیمی معیار اور علمی شخصیات کے حوالے سے گزشتہ دو دہائیوں میں کوئی ایسا بڑا نام سامنے نہیں آ سکا جو اس ادارے کی سابقہ علمی روایت کے تسلسل کا بھرپور مظہر ہو۔ اس ادارے کی بنیادی روح اور مقاصد کو دوبارہ زندہ کیا جائے تاکہ یہ درسگاہ ایک بار پھر علم و تحقیق کا فعال مرکز بن سکے۔
عبداللہ ہارون کالج لیاری بھی کراچی کے اہم تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ لیاری کے تاریخی اور ثقافتی پس منظر میں قائم یہ کالج ایک زمانے میں علمی اور فکری بیداری کا نمایاں مرکز رہا ہے۔ یہاں برصغیر کے عظیم ترقی پسند شاعر اور دانشور فیض احمد فیض نے تدریسی خدمات انجام دی تھیں۔
عبداللہ ہارون کالج نے صرف رسمی تعلیم تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ طلبہ میں شعور، فکر اور سماجی آگہی کو بھی فروغ دیا۔ اس ادارے سے تعلیم حاصل کرنے والے بہت سے طلبہ ادب، صحافت، سماجی خدمات اور سرکاری و نجی اداروں میں نمایاں عہدوں پر فائز ہوئے۔ یہ کالج لیاری کے نوجوانوں کے لیے علم، آگہی اور سماجی شعور کا ایک مضبوط مرکز ثابت ہوا۔
این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی بھی کراچی کا ایک تاریخی اور ممتاز تعلیمی ادارہ ہے۔سکھر بیراج کی تعمیر کے عظیم منصوبے کے دوران ماہر اور تربیت یافتہ انجینئرز کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے 1921ء میں پرنس آف ویلز انجینئرنگ کالج کی بنیاد رکھی گئی۔
اس ادارے کا بنیادی مقصد ایسے قابل اور ہنر مند سول انجینئرز تیار کرنا تھا جو سکھر بیراج جیسے بڑے تعمیراتی منصوبوں میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ 1924ء میں اس ادارے کو معروف سماجی و کاروباری شخصیت نادر شاہ ایڈولجی ڈنشا کے ورثاء کی جانب سے ایک لاکھ پچاس ہزار روپے کا خطیر عطیہ موصول ہوا۔ اس مالی معاونت کے اعتراف میں کالج کا نام تبدیل کر کے این ای ڈی گورنمنٹ انجینئرنگ کالج رکھ دیا گیا۔
قیامِ پاکستان سے قبل1947ء تک، یہ ادارہ برطانوی دورِ حکومت میں کئی برسوں تک بمبئی یونیورسٹی سے منسلک رہا۔ اس وابستگی کے باعث انجینئرنگ تعلیم کو علمی اعتبار اور معیار کے لحاظ سے برصغیر میں ایک ممتاز مقام حاصل رہا۔ اس ادارے نے پاکستان کو بے شمار قابل انجینئر، سائنس دان اور ماہرین فراہم کیے ،نہ صرف یہ بلکہ سیاست، تعلیم، کھیل اور کاروبار سمیت مختلف میدانوں میں قابل اور باصلاحیت افراد پیدا کیے ہیں۔
کراچی کی علمی تاریخ میں جامعہ کراچی کا نام بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ 1951ء میں قائم ہونے والی یہ جامعہ پاکستان کی بڑی جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جامعہ کراچی کو تحقیق، تدریس اور علمی سرگرمیوں کے حوالے سے پورے ملک میں ایک ممتاز مقام حاصل تھا۔ یہاں کے اساتذہ اور طلبہ نے سائنس، ادب، معیشت، سماجیات اور دیگر شعبوں میں قابل قدر علمی خدمات انجام دیں۔
تعلیمی ادارے محض درس و تدریس کے مراکز نہیں تھے بلکہ وہ ایسے فکری و سماجی کارخانے تھے جہاں سے قیادت، تحقیق، ادب، سیاست اور کھیل کے میدان کے لیے باصلاحیت افراد تیار ہوکر نکلتے تھے۔ ان اداروں کی فضا میں صرف کتابی علم ہی نہیں بلکہ شعور، کردار اور ذمہ داری کا احساس بھی پروان چڑھتا تھا۔
ماضی میں اس عظیم درسگاہ سے فارغ التحصیل ہونے والے کئی نامور اسکالرز، سائنس دان اور ماہرینِ تعلیم نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا،ان میں ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی، عبدالقادر خان، عطا الرحمٰن، آئی ایچ قریشی، جیسے جید اہلِ علم شامل ہیں، جنہوں نے تحقیق، سائنس اور تعلیم کے شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
یہ تمام شخصیات جامعہ کراچی کی علمی و فکری میراث کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کی خدمات اس امر کا ثبوت ہیں کہ جامعہ کراچی محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ علم، تحقیق اور فکری رہنمائی کا ایسا مرکز ہے جہاں سے فارغ التحصیل طلبا معاشرے کی فکری و علمی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ماضی میں سرکاری تعلیمی ادارے علمی وقار اور تعلیمی معیار کی علامت سمجھے جاتے تھے۔
گورنمنٹ دہلی کالج، گورنمنٹ آدم جی کالج اور گورنمنٹ کالج ناظم آباد جیسے اداروں کی شناخت صرف عمارتوں یا نصاب سے نہیں بلکہ ان اساتذہ کی محنت، دیانت اور علمی بصیرت سے تھی جو درس و تدریس کو محض پیشہ نہیں بلکہ قومی خدمت سمجھتے تھے۔
اسی طرح خواتین کی تعلیم کے میدان میں گورنمنٹ کالج برائے خواتین، گورنمنٹ کراچی گرلز کالج اور گورنمنٹ سرسید گرلز کالج جیسے اداروں کا شمار شہر کے اُن تعلیمی مراکز میں ہوتا تھا جہاں تعلیم کو محض امتحان پاس کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ شخصیت سازی، فکری بالیدگی اور سماجی شعور کی تشکیل کا وسیلہ قرار دیا جاتا تھا۔ مباحثوں اور ادبی سرگرمیوں کے ذریعے ان کی فکری تربیت کی جاتی اور کھیل کے میدان میں بھی ان کی صلاحیتوں کو جِلا بخشی جاتی تھی۔
آج وہ علمی فضا،شوقِ مطالعہ اور تعلیمی معیار پہلے جیسا دکھائی نہیں دیتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب وہ مخلص اور باصلاحیت اساتذہ نہیں رہے یا طلبہ میں علم کے حصول کی وہ لگن نہیں رہی جو کبھی ان اداروں کی پہچان تھی؟ حقیقت غالباً ان دونوں عوامل کے درمیان کہیں پوشیدہ ہے۔
یہ صورتِ حال اس امر کی متقاضی ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی اس کھوئی ہوئی علمی روایت کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور اسے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ کسی بھی قوم کی اصل قوت اس کے تعلیمی ادارے ہوتے ہیں، انہی اداروں سے وہ نسل تیار ہوتی ہے جو مستقبل میں معاشرے کی فکری، سماجی اور قومی سمت کا تعین کرتی ہے۔ جب تعلیمی ادارے مضبوط ہوتے ہیں تو قوم کی بنیاد بھی مستحکم ہوتی ہے، جب ان کی روشنی مدھم پڑنے لگتی ہے تو معاشرے کی فکری سمت بھی دھندلانے لگتی ہے۔