پاکستان کے مجموعی سماجی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو مختلف شعبہ ہائے حیات میں خواہ وہ سیاست ہو یا معیشت یا سماجی تبدیلی، ان سب میں دو متحارب اور متوازی رجحانات غالب نظر آتے ہیں۔ ایک رجحان خوش آئند امکانات کا ہوتا ہے، جبکہ دوسرا مشکلات اور چیلنجز کا۔ قومی تعمیر نو کے نقطہ نظر سے حکمت عملی کا تقاضہ یہ ہے کہ مشکلات کا حل تلاش کیا جائے۔ چیلنجز کو قبول کرکے تعمیر کی شکلیں دریافت کی جائیں اور یوں خوش آئند امکانات کی طرف سفر طے کیا جائے۔
اس وقت پاکستان کی24کروڑ کے قریب آبادی میں 60فیصد سے زیادہ 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے ۔یعنی پاکستان کو باآسانی نوجوانوں کی قوم قراردیا جاسکتا ہے،جو ایک طرف ملک کی تعمیر، اس کی اقتصادی اور سماجی ترقی کا بہت بڑا ذریعہ بن سکتا ہے، وہیں دوسری طرف اگر یہ کسی تعمیری کام میں استعمال نہ ہوسکے تو بہت بڑے سماجی بحران اور تخریب کا وسیلہ بھی بن سکتی ہے۔
اس وقت پاکستان میں ڈھائی کروڑ کے قریب ایسے بچے ہیں جو اسکولوں میں جانے کی عمر کو پہنچ چکے ہیں لیکن وہ اسکولوں میں داخل نہیں ہوسکے ۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ ہمارا آئین بنیادی حقوق کے باب میں اپنے آرٹیکل 25-Aمیں کہہ چکا ہے کہ16 سال سے کم عمر کے بچوں کی تعلیم لازمی اور مفت ہونی چاہیے اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا اہتمام کرے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ آئین کی اس دفعہ کی روشنی میں ملک کی پارلیمان اور صوبائی اسمبلیاں ضروری قانون سازی بھی کر چکی ہیں۔
اس سب کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں بچوں کا اسکولوں میں نہ ہو نا حکومتوں کی، خواہ وہ مرکزی حکومت ہو یا صوبائی حکومتیں بہت بڑی ناکامی ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارا پورا نظامِ تعلیم غلط ترجیحات اور غیر معمولی داخلی کمزوریوں کاحامل رہا ہے۔ مثلاً ایک بڑے عرصے سے ہماری حکومتیں اول تو تعلیم کے شعبے میں بہت کم رقم مختص کرتی ہیں مگر جوکی جاتی ہے اس میں بھی مختلف مدارج کی تعلیم کے درمیان کوئی قابل ِ فہم تناسب نظر نہیں آتا۔
کم وبیش تمام صوبوں میں یہ رجحان دیکھنے میں آتا ہے کہ یونیورسٹیوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ اسکولوں پر انویسٹمنٹ بہت کم ہے اور طلباء کا داخلہ بھی محدود ہے۔ آبادی کے ایک بڑے حصے کا اسکولوں تک نہ پہنچ پانا بہت سے مسائل کو جنم دیتا ہے۔ جہاں تک 15 سے24 سال تک کے اُن بچوں کا مسئلہ ہے اور جن کی تعداد2023کی مردم شماری کی رو سے سامنے آئی ہے ان کو Youth Bulgeیا ’جواں سالوں کا ابھار‘ کا نام دیا گیا ہے۔
ورلڈ بینک کے World Development Indicatorsکی رو سے اس نوجوان نسل کے اس گروپ کی تعداد مجموعی آبادی کا20 فیصد ہے، یہ فیصد وقتاً فوقتاً بڑھتا اور گھٹتا رہا ہے۔1980 میں اس کی تعداد19.2فیصد تھی۔ 2000 میں 19.4فیصدجب کہ2010 میں یہ اپنی اب تک کی سب سے بلند شرح20.9 فیصد تک پہنچ گئی ۔2023میں یہ20 فیصد پر آگئی۔
اس کا مطلب ہے کہ یہ تعداد12 سے13 برسوں میں کچھ گری ہے، اگر اس تعداد کو نسبتاً بڑے کینوس پر دیکھنے کی کوشش کی جائے تو یہ صورت سامنے آتی ہے۔2017سے 2023کے درمیان نوجوان نسل کے اس حصے کی تعداد میں اوسطاً 1.3فیصد سالانہ اضافہ ہوا ہے ۔یہ بات بھی ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے کہ پاکستان کی مجموعی آبادی میں اضافے کی شرح2.5 فیصد ہے۔
مذکورہ عمر کے نوجوانوں کے انفرادی اور قومی مفاد کا تقاضہ یہ ہے کہ یہ دو جگہوں پر موجود نظر آئیں، میٹرک کے بعد کی تعلیم کے شعبے میں یا پھر معاشی سرگرمی کے دائرے میں۔ ان دونوں شعبوں کا منظر نامہ کچھ یوں ہے کہ بڑی تعداد میں یونیورسٹیوں کے قیام کے باوجود یونیورسٹیاں اپنا بیشتر کام تحقیق کے شعبے میں یا مفید مطلب پیشوں کے لیے نوجوانوں کی تیاری کی خاطر مختص نہیں کرسکی ہیں ، چنانچہ یہ متضاد صورت حال سامنے آرہی ہے کہ ،جہاں ایک طرف یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے وہیں یونیورسٹیوں میں داخلے کم ہوتے جارہے ہیں،کم از کم کراچی یونیورسٹی کے حوالے سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں وہاں داخلوں کی تعداد گھٹی ہے۔
پشاور یونیورسٹی سے بھی اسی طرح کی اطلاعات مل رہی ہیں ،وہاں تو چند شعبے بند کرنے کی نوبت آگئی ہے۔ کالجوں کی تعلیم کم و بیش پورے ملک میں انتہائی ناقص ہے، جس کا مظہر یہ حقیقت ہے کہ ہر شہر میں بڑی تعداد میں ٹیوشن سینٹر ز کا م کررہے ہیں اور وہ بچے جو کالجوں کی فیس دے کر وہاں مناسب تعلیم حاصل نہیں کرپاتے وہ ان سینٹرز کا رخ کرتے ہیں ۔ اسکولوں کے بارے میں ان میں اضافے کی شرح واضح طور پر یونیورسٹیوں میں اضافے کی شرح سے بہت کم ہے۔
معیشت کے شعبے کی بھی صورت حال یہ ہے کہ 2018سے 2023کے درمیان 6 برسوں میں ہماری معیشت میں اضافے کی شرح GDPکے2.6 فیصد سے زیادہ نہیں رہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معیشت کا پھیلاؤ بہت محدود رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بے روزگاروں کی ایک بہت بڑی تعداد ملک میں پائی جاتی ہے، جس میں نوجوانوں کا ایک بڑ ا حصہ ہے۔
معروف ماہر معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا صاحب نے اپنی ایک تحقیق میں مذکورہ عمر یعنی15 سے 24 سال کے نوجوانوں کا ذکر کرتے ہوئے اس گروپ کے ایک حصے کے لیے Idol Youthیعنی’ بے روز گار‘ اور’ فارغ‘ نوجوان کی ترکیب استعمال کی ہے۔ ہم آبادی کے اس حصے کے لیے’ بے روزگار‘ کے بجائے ’فارغ‘ نوجوانوں کی ترکیب کو استعمال کرنا چاہیں گے، انہوں نے ILOاور World Development Indicatorsکی مدد سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ2024میں اس فارغ گروپ) (Idol Youthکی تعداد 1کروڑ 51لاکھ تھی۔ جبکہ نو سال قبل 2015میں یہ تعداد 1کروڑ 24لاکھ تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ2015سے 2024 کے درمیان اس تعداد میں 2.2فیصد کا اضافہ سالانہ بنیاد پر ہوا ہے۔
2023کی مردم شماری کے مطابق 16سے 24سال تک کی عمر کے نوجوانوں میں وہ نوجوان جو Idol Youthیا فارغ نوجوانوں میں شمار کیے جاسکتے ہیں، ان کی تعداد اگر صوبائی سطح پر دیکھی جائے تو پنجا ب میں ان کی شرح 33فیصد، سندھ میں 38فیصد، بلوچستان میں 41فیصد اور خیبر پختونخوا میں 43فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دو سب سے پسماندہ صوبوں یعنی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں اس فارغ نئی نسل کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو نہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پہنچ پائی اور نہ ہی معاشی سرگرمی کا حصہ بن سکی ہے۔
وہ نسل جو جنریشن ۔زی (Gen-Z)کہلاتی ہے، جو 1998سے2012 تک کے عرصے میں پیدا ہوئی، جن کی عمریں 13سے 27 سال تک ہیں،جو اسکولوں سے نکلنے والے ہیں یا نکل چکے ہیں اور عملی زندگی میں ان کی شمولیت ہوچکی ہے یا ہوجا نی چاہیے۔
یہ نسل اپنے اپنے ملکوں کے سماجی و معاشی حالات کے تناظر میں زیر بحث آرہی ہے۔ بعض ملکوں میں جیسے بنگلہ دیش، نیپال، انڈونیشیا اور سری لنکا میں نئی نسل بشمول جنریشن ذی کے احتجاج بھی حالیہ برسوں میں سامنے آئے ہیں جنہوں نے اپنے ملکوں کی حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ابھی پاکستان میں Gen Zکے حوالے سے کوئی قابلِ ذکر تحقیق نہیں ہوئی ہے تاہم چند عمومی رجحانات جو دیگر ملکوں میں دیکھنے میں آئے وہ پاکستان میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ Gen Z کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ Age of Outrage، غصے اور نارضگی کی عمر ہے۔ ان سے وابستہ ماہ و سال کو ’غصے اور ناراضگی‘ کا عہد بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہ نسل ہے، جس نے ڈیجیٹل دنیا میں آنکھ کھولی ہے۔ ان کا جو کچھ دنیا کے بارے میں علم و مشاہدہ ہے وہ لیپ ٹاپ کی اسکرین سے حاصل ہوتا ہے۔
ان کی شناختیں، ان کا اپنے بارے میں ادراک ، ان کی آرزومندی،اور ان کے اکثر مسائل بھی۔ نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے جنریشن زی کے طالب علم پریشان ہیں کہ اُن کامستقبل کیا ہو گا۔ ان میں سے جو عام تعلیمی اداروں میں ہیں،انہیں اپنی عملی زندگی شروع کرنے کا خوف لاحق ہے۔ وہ کون سی نوکری حاصل کریں گے؟ ملک میں معاش کی مارکیٹ بہت محدود ہے اور باہر جانا وسائل کا تقاضا کرتا ہے۔
اچھے اور مہنگے تعلیمی اداروں کے طلبہ کے مسائل الگ ہیں، بعض اعلیٰ اداروں کے طلبہ سے سوال کرنے پر معلوم ہوا کہ اُن کے لیپ ٹاپس اور موبائل فونوں نے انہیں بتا رکھا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر جانے کی صورت میں اُن سے دنیا کی بڑی یونیورسٹیاں کیا توقع رکھتی ہیں ۔وہ پاکستان کے معیار تعلیم کے شاکی ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں بند نئی نسل کی سب چیزوں کا تعین ان کے اور لیپ ٹاپ کی اسکرین کے درمیان مکالمے سے ہوتا ہے۔
کمپیوٹر سے باہر کی دنیاخواہ وہ کتنی ہی متعلق کیوں نہ ہو وہ اس کے بارے میں بڑی حد تک ناواقف ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ باہر کے حقائق کے بارے میں اُن کے ردعمل بھی اضطراری انداز کے ہوتے ہیں۔ ان کاایک نفسیاتی میک اپ ہے جوماضی کی نسلوں کے لحاظ سے قدرے مختلف ہے۔
نئی نسل Idol Youthنیز Gen Z کی تعداد اور ان کے کوائف کے پیش نظر یہ بات خلاصہ کلام کے طور پر کہی جا سکتی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں نوجوانوں کا موجود ہونا قومی تعمیر، ادارہ سازی، صنعت و زراعت کی ترقی اور دیگر شعبۂ ہائے زندگی کی تیز رفتار تر قی کے لیے بڑاکار آمد ہو سکتا ہے۔ لیکن اکثر راستے ان کے لیے محدود ہیں۔
اگر یہ بلکہ مفقود نہ ہوں تب بھی، ان کا قومی زندگی میں بے مؤثر ہونا ان کے لیے تو بے روزگاری کا ذریعہ ہے ہی ان کی بے کاری اور بے مصرفی ان کو منفی سرگرمیوں کا حصہ بنا سکتی ہے ۔یہ انتہا پسند تنظیموں کے ہاتھ میں کھیل سکتے ہیں۔ یہ خود بھی اضطراری ردعمل پیدا کر سکتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس بڑے چیلنج کا سامنا کیسے کیا جائے؟ چند تجاویزپیش کی جاسکتی ہیں۔
1) بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی قومی ترجیحات کو از سر نو طے کریں ،ہماری جملہ پالیساں اشرافیہ یا خوشحال طبقات کو پیشِ نظر رکھ کر نہ بنائی جائیں بلکہ ان کا رخ عام لوگوں کی طرف ہونا چاہیے ۔ یہ ایسی پالیسیاں ہوں جن میں ہم باشندگان مملکت کے اقتصادی اور سماجی مفادات کو پیش ِ نظر رکھیں۔
2) تعلیم کے شعبے میں عدم مطابقت اور عدم تناسب کو ختم کر کے اسکولوں کی تعلیم پر سب سے زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔
3) پاکستان میں تعلیم صرف نصابی کتابوں اور لیکچروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ Skill Based Educationکو فوقیت دی جائے کیونکہ دنیا میں اب ڈگریوں کی مانگ سے زیادہ ہنر کی مانگ بڑھ رہی ہے۔
4)پاکستان میں معاشی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ صنعت، زراعت، مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی کے شعبوں میں نوجوانوں کی کھپت ہو سکتی ہے۔ بڑی تعداد میں بے روزگار پھرنے والے نوجوان ان صنعتوں کے لیے تیار کیے جائیں تو یہ ان کا اچھا مصرف ہوگا۔