مصنّفہ: جویریہ خان مری
صفحات: 240، قیمت: 1995 روپے
ناشر: الوقار پبلی کیشنز، لاہور۔
فون نمبر: 6903583 - 0333
مصنّفہ نے اپنی کتاب کو نقّادانِ ادب کی دست بُرد سے محفوظ رکھا ہے اور یہ خُود اعتمادی ہی انسان کو بڑا بناتی ہے۔ اُنھوں نے اپنی کتاب کا دیباچہ خُود تحریر کیا ہے، جس سے اُن کا تعارف بھی ہوا اور اُن سے متعلق معلومات بھی حاصل ہوئیں۔ جن ادیبوں نے بچّوں کے ادب سے اپنے تحریری سفر کا آغاز کیا، اُن میں جویریہ مری کا نام بھی شامل ہے۔
ہر بڑا ادیب اِسی راستے سے ادب میں داخل ہوا۔ جویریہ ایک پڑھی لکھی خاتون ہیں اور اُن کا اسلوبِ نگارش دوسروں سے بہت مختلف ہے۔ گو کہ اُنھوں نے کوئی وضاحت تو نہیں کی، لیکن اُن کی یہ تخلیق ہمیں تو ایک ناول لگا، جس کی کہانی اپنے قاری کو ساتھ ساتھ لے کر چلتی ہے۔ یہ ناول مفروضوں پر مبنی نہیں، اِس میں شامل ہر کردار حقیقی معلوم ہوتا ہے۔’’ محبّت، قضا تو ہوجاتی ہے، مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا محبّت فنا بھی ہوجاتی ہے۔
انسان تو فنا ہوجاتے ہیں، مگر اِس فنا میں محبّت ادا ہوجاتی ہے۔‘‘مصنّفہ کی اِن سطور سے بھی ناول کے تھیم اور افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ ناول مصنّفہ کے گہرے مشاہدات اور تجربات کا آئینہ دار ہے۔ بہت سے ناولز کی ابتدا اچھی ہوتی ہے، لیکن اختتام توقّع کے مطابق نہیں ہوتا۔ تاہم، یہ ناول ابتدا تا انتہا ایک ہی کیفیت کا حامل ہے۔
آپ پڑھتے چلے جائیے، تحریر کی پرتیں کُھلتی چلی جائیں گی اور یہ وصف ہر مصنّف کی تحریر میں نہیں ہوتا۔ ناول تصنیف کرنا ہماشُما کے بس کی بات نہیں کہ اِس کے لیے گہرے مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جویریہ کے طرزِ تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُنہوں نے نہ صرف بڑے ناول نگاروں کا مطالعہ کیا ہے، بلکہ اُن کی قوّتِ مشاہدہ اور تجزیاتی صلاحیتیں بھی کمال ہیں، تب ہی وہ اپنا اسلوب بنانے میں کام یاب ہوئیں۔
عموماً نئے لکھاریوں کی طرف توجہ نہیں دی جاتی اور لوگ بڑے ناموں کی طرف بھاگتے ہیں، حالاں کہ ہمیں بڑے، چھوٹے کی تخصیص نہیں کرنی چاہیے کہ بڑا مصنّف وہی ہے، جس کا اندازِ تحریر قلب و نظر کو متاثر کرے اور جویریہ کے اسلوب میں یہ وصف نمایاں ہے۔