مصنّف: پروفیسر فیاض احمد شیخ
صفحات: 360، قیمت: 2000 روپے
پیش کش: فضلی بُک، اردو بازار، کراچی۔
پروفیسر فیاض احمد شیخ نے کراچی کے ایک متوسّط گھرانے میں آنکھ کھولی، 1985ء میں ڈاؤ میڈیکل کالج سے فراغت کے بعد برطانیہ میں نیورولوجی کی اعلیٰ تربیت حاصل کی، بالخصوص لندن کے پرنسس مارگریٹ مائیگرین کلینک سے سردرد کے علاج میں تخصّص کیا۔ اِس کے علاوہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں بھی ڈگری کے حامل ہیں۔
اِن کا پورا تعلیمی سفر انتہائی شان دار رہا، تو عملی زندگی میں بھی بے شمار کام یابیاں سمیٹیں۔ اِس ضمن میں اُن کا کہنا ہے کہ’’ اللہ کا شُکر ہے، مَیں نے اپنی(زندگی کی) اننگ بہت اچھی کھیلی، اسکور بھی اچھا کیا، بلّے باز اگر اچھا کھیل کر آؤٹ ہو، تو پویلین لوٹتے ہوئے اُسے تالیاں بجا کر داد دی جاتی ہے اور اُس کے آؤٹ ہونے پر زیادہ مایوس یا غم گین نہیں ہوتے۔ کچھ یہی حال میرا ہے۔
بھرپور زندگی گزری، عزّت، دولت اور نام کمایا، دنیا دیکھی اور ہر شوق پورا کیا۔ کوئی حسرت لیے بغیر میچ کے آخری اوورز بھی گزر جائیں گے اور اُمید ہے، جاننے والے میری زندگی اور کام یابی سیلیبریٹ کریں گے کہ جانے والا بہت اچھا میچ کھیل گیا۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے اپنا یہی سفرِ زیست، اچھوتے اور خُوب صُورت انداز میں زیرِ نظر کتاب میں سمیٹا ہے۔ کتاب تین حصّوں میں تقسیم کی گئی ہے۔
حصّہ اوّل پاکستان میں گزرے26 برسوں کی یاد داشتوں سے متعلق ہے، جب کہ دوسرے حصّے میں برطانیہ میں 1986ء سے 1996ء تک کے دس سالہ قیام کی رُوداد ہے۔ آخری اور تیسرا حصّہ برطانیہ میں بطور کنسلٹنٹ گزرے دنوں کی یادوں پر مشتمل ہے۔ اُن کا سفر کراچی کے گنجان آباد اور قدیم علاقے، کھارادر سے شروع ہوا اور پھر اپنی اَن تھک محنت سے برطانوی شاہی خاندان تک رسائی حاصل ہوئی۔
اُن کی اپنے پیشے سے وابستگی کا یہ عالم ہے کہ اہلیہ کے بقول’’ فیاض کی پہلی(اور شاید آخری بھی)محبت اُن کا پیشہ ہے۔‘‘ اِس سے بڑی گواہی ممکن بھی نہیں۔ کہنے کو تو ڈاکٹر صاحب نے اپنے خاندان، محلّے، دوستوں، تعلیمی سفر، لڑکپن اور جوانی کے واقعات بیان کیے ہیں، مگر پس منظر میں ہمیں وہ کراچی نظر آتا ہے، جس کی معاشرتی اقدار، علم پروری، روا داری، سیاسی بے داری کی کسی زمانے میں مثالیں دی جاتی تھیں۔
پھر دیارِ غیر میں جن تجربات سے گزرے، وہ ہمّت، محنت اور عزم کی بے مثال داستان تو ہے ہی، اُن کا ذکر نوجوانوں کے لیے اِس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں وہ اپنی تعلیمی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں۔ پروفیسر فیاض احمد شیخ ہائی اسکول سے لے کر میڈیکل کالج اور پھر آگے کے امتحانات میں پوزیشن ہولڈر رہے، اسلامی جمعیت طلبہ سے قربت رہی کہ خاندان جماعتِ اسلامی سے وابستہ تھا، مگر بائیں بازو والوں سے بھی تعلقات رہے۔
طلبہ یونینز کی انتخابی گہماگہمی میں بھی حصّہ لیا، اٹھارہ برس کی عُمر میں یتیمی کا دُکھ سہا، ٹیوشنز پڑھائیں، راتوں کو سڑک پر لگے بلب کی روشنی میں پڑھائی کی، مگر اُن کی پوری آپ بیتی میں کہیں بے ہمتّی یا مایوسی نظر نہیں آتی۔ اور شاید اِس کتاب کا نوجوانوں کے لیے یہی پیغام ہے۔
محمود شام، اقبال اے رحمن مانڈویا، عرفان صبیح، سیّد رضی احمد، شاہین رشید(بہن)، نیلوفر(اہلیہ) اور رابیل رشید احمد(بیٹی) کی تحاریر نے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کیا ہے۔ واضح رہے، اِس سوانح عُمری کی فروخت سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی’’انڈس اسپتال‘‘ کے لیے وقف ہے۔