• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماضی بعید اور موجودہ جنگوں میں واضح فرق ہے۔ ماضی کی بیشتر جنگیں نظریاتی یا علاقائی اختلافات پر لڑی جاتیں جن کی برکات یا اثرات میں بادشاہ، سپہ سالار، لشکر اور عوام الناس شریک ہوتے۔ ایسی جنگوں کے ماحولیاتی اثرات بھی بہت کم ہوتے، کیوں کہ جنگوں میں مخلوق دوست اُصولوں کی پیروی کی جاتی۔ افسوس آج کا انسانی قائد مال و دولت اور توانائی وسائل کی لوٹ کھسوٹ کیلئےلشکرکشی اور جنگ و جدل پر آمادہ رہتا ہے، لیکن جنگوں کے مابعد سارے مالی اور ماحولیاتی نقصانات عوام کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے۔ آج کل جنگیں سیزفائر سے اختتام پذیر ہوتی ہیں، لیکن کچھ عرصہ تک معاشی بدحالی فریقین کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ اپنے صنعتی اور قدرتی وسائل بڑھا کر چند سال میں قابو بھی پا لیتی ہیں، لیکن ان جدید جنگوں کی وجہ سے جو ماحولیاتی تباہ کاریاں ہوتی ہیں۔ فضا، سمندر اور زمینوں پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کی بحالی کیلئےکئی دہائیاں درکار ہوتی ہیں۔ اس کی مثال ویت نام کی جنگ ہے جسکے دوران امریکہ نے دشمن ملک کی زرعی فصلوں کو تباہ کرنے کیلئے تقریباً 30لاکھ ایکڑ زرعی فصلوں پر زہر چھڑک کر برباد کر دیا تھا تاکہ انسانی اور حیوانی زندگی کو ختم کیا جا سکے اور مقامی مزاحمت کا خاتمہ ہو۔ بعدازاں فوڈچین، زمین، پانی کے ذخائر اور فضائوں میں اس زہر کے مہلک اثرات کئی دہائیوں تک موجود رہے۔ اس سے قبل امریکہ کی جانب سے ہیروشیما، ناگاساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بموں کے اثرات تیسری نسل تک تابکاری پھیلاتے رہے۔ انسانی جسموں کو لاغر و بیمار کرتے رہے۔ اسی طرح ایران، عراق کے درمیان طویل جنگ، غزہ اور یوکرین کی جنگوں کے ماحولیاتی اثرات اور تباہ کاریوں کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ نام نہاد جدید اور مہذب ادوار کی موجودہ جنگوں کا مقصد محض غنیم کی فوجوں کی تباہی نہیں، بلکہ اس کے ہمراہ دشمن ملک کی شہری زندگی، ذرائع مواصلات، عوامی فلاحی اداروں، اسکول، ہسپتال عمارات کو نیست و نابود کرنا بھی شامل ہوتا ہے۔ ان جنگوں کے دوران متحارب ملک کی فصلوں، فضائوں، آبی ذخائر میں کیمیکلز اور تابکاری اثرات کو شامل کر کے عوام میں خوف و ہراس پھیلانا کوئی انسانی خلاف ورزی نہیں، بلکہ جدید جنگی حربہ شمار ہوتا ہے۔ جدید حربوں میں ڈرون اور میزائل کے ذریعے عوامی اجتماعات پر حملہ شرمندگی کا باعث نہیں ٹھہرتا۔ فریق مخالف کا نیوکلیئر پاور پلانٹ پُرامن استعمال کیلئے ہو یا زیرتعمیر ہو، بس چلے تو سنگین نتائج کے باوجود اسے بھی اندھادھند بمباری کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ نیوکلیئر پلانٹ پر افواج قابض ہو جائیں۔ ان کی کولنگ کو بند کر دیا جائے۔ اسٹاف کو بے دخل کر دیا جائے یا موہوم ایٹم بم کی تیاری کو روکنےکیلئےبیرونی پاور سپلائی بند کر دی جائے۔ تو یہ انسانی جانوں کیلئے نہایت خطرناک صورتِ حال ہے۔ حال ہی میں رُوس، یوکرین جنگ کے دوران Zaporizhia شہر کے پاور پلانٹ کی جزوی تباہی ایک مثال ہے جس سے سبق ملتا ہے کہ کس طرح ایک پُرامن ایٹمی پلانٹ سے چھیڑخانی ایسی ماحولیاتی اور فضائی تباہی کا باعث بن سکتی ہے جسکے اثرات متحارب پڑوسی ملکوں کی سرحدی لکیروں کے تابع نہیں ہوتے۔ مہلک کیمیائی اور تابکاری بموں کے استعمال سے پڑوسی دشمن ملک بالعموم احتراز کرتے ہیں، لیکن چونکہ امریکہ، ایران، اسرائیل کے مابین حالیہ جنگ کے ایک فریق کا تعلق سمندر پار سے ہے۔ دریں صورت کسی خود ساختہ اشتعال کا عذر بنا کر خدانخواستہ ایٹمی اسلحہ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس ایڈونچر کو روکنے کیلئے بھی موجودہ جنگ میں فوری سیزفائر عالمی امن کیلئے بہت ضروری ہے۔ یہ جنگ ماحولیاتی تباہی کے لحاظ سے نہایت سنگین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایرانی تیل کے ذخائر پر بمباری نے تیل میں موجود انفیران کو بھڑکایا ہے جسکی وجہ سے کالے دُھوئیں پر مشتمل جس میں زہریلے Soot، سلفر مرکبات، بھاری دھاتیں موجود تھیں، تیزابی بارش کا باعث بن گئیں اور انفراسٹرکچر کو مسخ کر دیا۔ جنگی حملوں اور اندھادھند بمباریوں کی وجہ سے اس وقت آئل ٹینکرز، ایرانی پلیٹ فارمز اور ساحلی تنصیبات میں سے بہت زیادہ تیل لیک ہوا ہے۔ چنانچہ بحری حیات تباہی کا شکار ہو رہی ہے۔ متحارب ملکوں کے صاف پانی کے پلانٹ Clogging کی وجہ سے بند ہو رہے ہیں۔ تیل و گیس کے کنوئوں پر مسلسل بمباری، ملٹری آپریشن کے دوران فیول کا استعمال شدید کاربن ڈائی آکسائیڈ آلودگی کا باعث بن رہی ہے۔ جنگی اخلاقیات اور ضوابط سے بے پروا فریقین کی جانب سے کارخانوں، لیبارٹریوں، ہسپتالوں، اسکولوں پر بے دریغ حملوں کی وجہ سے فضائیں مکدر ہو چکی ہیں۔ ایران، اسرائیل، امریکہ کے مابین موجودہ جنگ کی وجوہات میں تیل اور گیس کے تجارتی مفادات بھی شامل ہیں۔ اس جنگ کے منصوبہ سازوں کے پیش نظر شاید جنگ کی طوالت ہی کامیابی ہے۔ تیل پیدا کرنے والے مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک جنگ سے ہلکان ہو جائیں گے، اپنے ذخائر کو ناقابل استعمال بنا چکے ہوں گے، تب امریکہ اپنے مہنگے تیل سے مجبور دنیا کو تجارتی اور سیاسی محکومی میں جکڑ دے گا۔اس وقت پوری دنیا کے ممالک کی قیادتیں بالعموم تیل کمپنیوں کے زیراثر اپنی پالیسیاں وضع کر رہی ہیں۔ تیل تجارت کے اس اژدھا نے پاکستان جیسے غریب ملکوں کی معیشت کو جکڑ رکھا ہے۔ ان میں اتنی جرأت نہیں کہ تیل اور کوئلہ سے چلنے والے مہنگے بجلی گھروں سے تائب ہو کر آبی اور آفتابی توانائی کو فروغ دیں۔ حکومتوں نے قابل تجدید توانائی کے فروغ کیلئے اقدامات کئے ہوتے تو بے شمار مالیاتی بحرانوں اور جنگوں کے اثرات سے بچا جا سکتا تھا۔ آبنائے ہرمز میں تیل کے جہازوں کے برعکس سورج کی توانائی کیلئے کوئی بندش نہیں لگائی جا سکتی۔ جنگوں کے دوران بھی شہری عمارتوں، چھتوں پر نصب شمسی پلیٹ، بیٹری اور گرڈ کی مدد سے ہم ایسی جنگوں کے دوران شہری زندگی کو رواں رکھ سکتے ہیں، لیکن ایسے منظر کیلئے ہماری مجبور و مشکور سیاسی قیادت کو تیل کے چنگل سے نجات دلانا ضروری ہے۔

تازہ ترین