• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمارہ وقاص نامی خاتون کی شادی محمد وقاص رشید نامی شخص سے ہوئی، شادی کے کچھ عرصے بعد فریقین کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے اور بالآخر چھ سال بعد دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ عمارہ نے فیملی کورٹ میں نان نفقے اور جہیز کے سامان کے برابر قیمت کی وصولی کا دعویٰ دائرکر دیا۔ فیملی کورٹ نے عمارہ کے ماہانہ اخراجات تو مقرر کر دیے مگر جہیز کے سامان کی متبادل مالیت کا صرف 30 فیصد ادا کرنے کا حکم دیا۔ عمارہ نے اِس حکم کیخلاف اپیل دائر کی تو عدالت نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو تبدیل کرتے ہوئے جہیز کی مد میں دی جانے والی 30 فیصد مالیت کی واپسی کا حکم بھی منسوخ کر دیا اور وجہ یہ بتائی کہ عمارہ نے کوئی ایسا ثبوت نہیں دیا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ اسے جہیز میں فلاں فلاں اشیا ملی تھیں اور اُس نے اپنے والدین کو بھی گواہی کیلئے پیش نہیں کیا۔ اس فیصلے کیخلاف عمارہ وقاص نے ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی جسکے نتیجے میں ہائی کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ دیا۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ درخواست گزار ایک ملازمت پیشہ خاتون ہیں جو شادی سے قبل پاکستان ایئر فورس میں بطور افسر خدمات انجام دے چکی ہیں، سرکاری ملازمین، خاص طور پر ایئر فورس سے وابستہ افراد کا آئے دن مختلف شہروں میں تبادلہ ہوتا رہتا ہے، ایسے حالات میں والدین اکثر اپنی بیٹیوں کو بھاری جہیز کا سامان دینے کے بجائے نقد رقم دے دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی رہائش گاہ کی ضروریات کے مطابق سامان خود خرید سکیں۔ عدالت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا کہ فیملی کورٹ کے معاملات میں قانونِ شہادت 1984 کا سختی سے اطلاق نہیں ہوتا اور جہیز کی وصولی کیلئے خاتون کی زبانی گواہی بھی کافی ہو سکتی ہے۔ ہائی کورٹ نے ’ازدواجی جائیداد‘ کے تصور پر تفصیلی روشنی ڈالی اور نہ صرف مغربی اور اسلامی ممالک میں رائج قوانین کا جائزہ لیا بلکہ قرآنی آیات کا حوالہ دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ شادی کے دوران خریدی گئی جائیداد یا اثاثے، چاہے وہ صرف شوہر کے نام پر ہی کیوں نہ ہوں، درحقیقت دونوں فریقین کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جب دونوں فریق خاندانی نظام کو چلانے میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہوں تو اثاثوں کی تقسیم کے وقت اس بات سے فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ رقم کس نے کمائی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ گھر کی دیکھ بھال، بچوں کی پرورش، بزرگوں کی خدمت اور گھریلو مشقت، گو کہ براہ راست مالی آمدنی کا ذریعہ نہیں لیکن یہ وہ بنیادی عوامل ہیں جو شوہر کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے کر دولت اکٹھی کر سکے۔ پاکستان کے روایتی معاشرے میں طلاق کے وقت اِس غیر ادا شدہ محنت کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا، جس کی وجہ سے معاشی طور پر کمزور خواتین طلاق کے بعد مزید عدم تحفظ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ گھریلو خواتین کو ان کی گرانقدر خدمات کے عوض مشترکہ اثاثوں میں سے منصفانہ حصہ ملنا چاہیے۔ اِس سیر حاصل بحث کے بعد عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ وہ اشیا یا جائیداد جو شادی کے بعد شوہر نے حاصل کی ہو، اُس میں بیوی کا حصہ بھی ہوتا ہے، اِس ضمن میں مناسب قانون سازی کی جانی چاہیے تاکہ شادی کے بعد بنائے جانیوالے اثاثہ جات کی درست مالیت متعین کی جا سکے اور اِن اثاثوں کو بنانے میں بیوی کے تعاون اور اشتراک کا حساب بھی لگایا جا سکے چاہے وہ اثاثے صرف شوہر کے نام ہی کیوں نہ ہوں۔ اِس مقدمے میں چونکہ بیوی خود بھی ملازمت کرتی تھی اور گھر بار چلانے میں پورا حصہ ڈالتی تھی اِس لیے وہ کم ازکم پچاس فیصد حصے کی حقدار ضرور قرار پائیگی لیکن یہ وہ پہلو ہے جسے ماتحت عدالت نے یکسر نظر انداز کر دیا۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ مختلف مذہبی بلکہ سیکولر طبقے کے لوگ بھی اِس فیصلے پر تنقید کیوں کر رہے ہیں؟ عورتوں کو دنیا بھر میں کمزور سمجھا جاتا ہے اور پاکستان جیسے ممالک میں تو خاص طور پر اِن کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ اچھی خاصی کھاتی پیتی عورت کو بھی اگر طلاق ہو جائے تو اُس کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا، وہ رو پیٹ کے اپنے والدین کے گھر تو آ جاتی ہے مگر وہاں اُس کی جگہ پُر ہو چکی ہوتی ہے، اور غریب عورتوں کی خیر بات ہی کیا کریں۔ جو بنیادی اصول اِس فیصلے میں طے ہوا وہ بہت سادہ ہے۔ برطانیہ کا 1974 کا ازدواجی ایکٹ بھی یہی ہے۔ اصول یہ ہے کہ طلاق حاصل کرنے والے جوڑے کے نام پر جو مشترکہ اثاثہ جات ہوں گے اُنکی مساوی تقسیم ہوگی لیکن دو پیشگی شرائط کے ساتھ۔ اوّل، اثاثے اُنکی شادی کے دوران دونوں کے مشترکہ تعاون سے بنائے گئے ہوں، دوم، اُن اثاثوں کو بنانے میں فریقین کی کاوشوں اور باہمی تعاون اور شراکت کا واضح تعین نہ ہو سکے۔ اپنے ہاں تو حال یہ ہے کہ برسوں عورت اپنے شوہر اور اُس کے خاندان والوں کیلئے محنت کرتی ہے اور اگر ون فائن مارننگ شوہر اُس کو طلاق کیساتھ حق مہر کے بیس ہزار روپے دے کر فارغ کر دے تو اُس کے پاس رہنے کو کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔

یہاں خالصتاً کچھ ’مردانہ‘ سوال بھی پیدا ہوتے ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہے۔ پہلا، کیا عورت نصف قرض میں بھی شریک ہوگی؟ جی ہاں، بالکل، دنیا کے جن ممالک میں ازدواجی جائیداد کا تصور موجود ہے ، وہاں اثاثوں کیساتھ ساتھ ازدواجی ذمہ داریاں اور قرضے بھی مشترکہ سمجھے جاتے ہیں۔ دوسرا، موت کی صورت میں یہ کمائی مشترکہ کیوں نہیں سمجھی جاتی؟ فیصلے میں اِس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا ہے، جج صاحب نے نکاح نامے میں جس نئے خانے کی تجویز دی ہے، اُس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جائیداد کی مساوی تقسیم کا اطلاق ’شادی کے قائم رہنے کے دوران، یا طلاق کے بعد، یا شوہر کی وفات کی صورت میں‘ ہوگا۔ تیسرا، کیا ماں اور بہنوں کو بھی حصہ ملے گا؟ شادی ایک باقاعدہ قانونی معاہدہ ہے جو دو افراد کے درمیان معاشی اور سماجی شراکت داری قائم کرتا ہے جبکہ ماں بہنوں کا رشتہ خونی ہے سو یہ موازنہ درست نہیں۔ اسلامی اور ملکی قوانین میں ماں اور بہنوں کے حقوق اور اُنکی کفالت کی ذمہ داری پہلے سے ہی واضح ہے اور وراثت میں ان کے حصے متعین ہیں۔ چوتھا، اگر گھریلو ملازمین تمام کام کریں تو کیا پھر بھی حصہ ملے گا؟ جج صاحب نے یہ نہیں کہا کہ ہر صورت میں بس آنکھیں بند کر کے 50 فیصد حصہ دیدیا جائے، فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالتیں جائیداد کو ’منصفانہ‘ بنیادوں پر تقسیم کریں اور بہتر ہے کہ اِس ضمن میں قانون سازی کر لی جائے۔ پانچواں، اگر بیوی نے یکسوئی کے بجائے ذہنی دباؤ دیا ہو تو کیا اُلٹا احتساب ہوگا؟ ملاحظہ ہو جواب نمبر چار۔

باقی باتیں اپنی جگہ، میری رائے میں یہ فیصلہ پاکستان کے ’ٹائیگر وڈز‘ کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ جنہیں ’ٹائیگر وڈز کی طلاق کے بارے میں نہیں پتا وہ صرف اتنا جان لیں کہ موصوف کو طلاق کے بعد اپنی بیوی کو سو ملین ڈالر ادا کرنے پڑے۔ خدا کرے میری ارضِ پاک پر اترے وہ فصل گُل....وغیرہ وغیرہ۔

تازہ ترین