• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کی سیاست میں اصل رشتے نعروں سے نہیں، مشکل وقت کے فیصلوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ پاکستان آج ایک ایسے نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں ایک طرف خطے میں جنگ کی آگ بھڑک رہی ہے، ایران، امریکا اور پورا مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، تیل کی بڑھتی قیمتیں پاکستان کے عام آدمی کی زندگی کو جھلسا رہی ہیں، مہنگائی نے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیے ہیں، اور دوسری طرف وہی برادر ملک جسے پاکستان نے ہمیشہ بڑے بھائی کا درجہ دیا، اس نے اس کڑے وقت میں اپنے 3اعشاریہ5 ارب ڈالر واپس مانگ لیےہیں۔یہ وہی رقم تھی جو برسوں سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیے ہوئے تھی۔ پاکستان اس پر چھ سے ساڑھے چھ فیصد تک سود بھی ادا کر رہا تھا، مگر اس کے باوجود اس رقم کو ایسے لمحے میں واپس طلب کرنا جب ملک جنگی ماحول، معاشی دباؤ اور عوامی بے چینی میں گھرا ہوا ہے، ایک ایسا فیصلہ ہے جس نے قوم کے دل پر گہرا زخم لگایا ہے۔

پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو ہمیشہ صرف دوست نہیں، ایک قریبی عزیزسمجھا۔ حکومت کسی کی بھی رہی ہو، عمران خان کی یا شہباز شریف کی، عسکری قیادت میں جنرل باجوہ ہوں یا موجودہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سب نے اماراتی قیادت کو غیر معمولی عزت دی۔ ان کے صدور اور ولی عہد جب بھی پاکستان آئے، ان کے طیارے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی پاک فضائیہ کے شاہین انہیں حصار میں لے لیتے، جنگی جہاز سلامی دیتے، اور یہ منظر پاکستانی قوم فخر سے دیکھا کرتی۔ ایئرپورٹ سے لے کر ایوانِ صدر تک ایسا پروٹوکول دیا جاتا جیسے کوئی اپنا بزرگ گھر آیا ہو۔ کئی مواقع پر خود پاکستانی قیادت نے ذاتی طور پر گاڑی ڈرائیو کر کے مہمان نوازی کا ایسا اظہار کیا جو صرف سفارت نہیں بلکہ محبت کی زبان تھی۔یہ تعلق صرف حکمرانوں تک محدود نہیں تھا۔ دبئی، ابوظہبی، شارجہ اور دیگر اماراتی شہروں کی بلند و بالا عمارتوں کی بنیادوں میں پاکستانی مزدور کے ہاتھوں کی محنت شامل ہے۔

ان شاہراہوں کی چمک میں پاکستانی انجینئر، مستری، الیکٹریشن، ڈرائیورز اور کاروباری طبقے کا حصہ بھی روشن حقیقت ہے۔ لاکھوں پاکستانیوں نے وہاں صرف ملازمتیں نہیں کیں بلکہ اپنی جوانیاں کھپا دیں۔پھر صرف محنت ہی نہیں، سرمایہ بھی پاکستان نے دیا۔ پاکستانی سرمایہ کاروں نے دبئی کی ریئل اسٹیٹ، تجارت، ہوٹلنگ اور خدمات کے شعبوں میں اربوں ڈالر لگائے۔ متحدہ عرب امارات کی ترقی میں پاکستانی سرمایہ اور پاکستانی پسینہ دونوں برابر کے شریک رہے۔لیکن آج سوال صرف 3 ارب ڈالر کا نہیں، سوال اعتماد کے اس رشتے کا ہے جسے پاکستان نے ہمیشہ دل سے نبھایا۔مجھے اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا متحدہ عرب امارات کا حالیہ دورہ شدت سے یاد آ رہا ہے۔ اسی دورے میں اماراتی قیادت نے نہ صرف امریکی صدر کا غیر معمولی شاہانہ استقبال کیا بلکہ 200 ارب ڈالر سے زائد کےنئے معاہدوں اور پہلے سے کیے گئے 1.4 ٹریلین ڈالر کے دس سالہ سرمایہ کاری فریم ورک کو مزید آگے بڑھایا۔ دنیا نے دیکھا کہ امریکی صدر کے استقبال کیلئے ہر سفارتی روایت سے بڑھ کر گرم جوشی دکھائی گئی۔ شاہی پروٹوکول، خصوصی تقاریب، اور سماجی سطح پر بھی ایک ایسا ماحول بنایا گیا جس سے یہ پیغام گیا کہ عالمی طاقت کو خوش کرنا ریاستی ترجیح ہے۔اسی پس منظر میں جب پاکستان جیسے مخلص، دفاعی طور پر ساتھ کھڑے رہنے والے اور اپنے لاکھوں شہریوں کی محنت سے امارات کی ترقی میں حصہ ڈالنے والے ملک سے صرف 3اعشاریہ5ارب ڈالر بھی واپس مانگ لیے جائیں، تو دل واقعی صدمے سے بھر جاتا ہے۔یہاں دکھ صرف مالی نہیں، جذباتی بھی ہے۔ایک طرف عالمی طاقتوں کیلئے کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، غیر معمولی تحائف اور شاہانہ استقبال، اور دوسری طرف پاکستان جیسے برادر ملک سے مشکل ترین وقت میں مالی سہارا واپس لے لینا، اس پورے منظر کو اور زیادہ تکلیف دہ بنا دیتا ہے۔پاکستان آج واقعی مظلوم دکھائی دیتا ہے، کیونکہ اس نے ہر دور میں تعلق نبھایا، عزت دی، دفاعی حصار دیا، سفارتی حمایت دی، اپنی افرادی قوت دی، اپنا سرمایہ دیا، مگر بدلے میں مشکل وقت میں حساب مانگا گیا۔لیکن شاید قوموں کی بیداری بھی ایسے ہی لمحوں سے جنم لیتی ہے۔

یہ وقت پاکستان کیلئے شکوے سے زیادہ سبق کا ہے۔ ہمیں اب یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا میں مستقل رشتے نہیں، مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ اصل عزت اسی قوم کی ہوتی ہے جو اپنی معیشت، اپنی صنعت، اپنی برآمدات، اپنے زرمبادلہ اور اپنے اوورسیز پاکستانیوں کی طاقت پر کھڑی ہو۔آج دل دکھتا ضرور ہے، مگر زبان پر پھر بھی یہی دعا آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو اس مشکل وقت سے نکالے، اسے معاشی طور پر مضبوط کرے، اور اسے دوسروں کے سہاروں کے بجائے اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی توفیق دے۔

تازہ ترین